دشمن اب کوئی بھی مس ایڈونچر سے قبل 100 بار سوچے گا، وزیرداخلہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
گوجرانوالہ: وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ کشیدہ صورت حال میں پوری قوم کندن بن کر سامنے آئی، دشمن اب کوئی بھی مس ایڈونچر کرنے سے پہلے 100 بار سوچے گا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے گوجرانوالہ میں مرکز مصطفیٰ کا دورہ کیا جہاں انہیں مدرسے کے مختلف سیکشن دکھائے گئے۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نے مرکز مصطفیٰ کے سرپرست اعلی مولانا محمد رضا ثاقب مصطفائی سے ملاقات کی اور دین اسلام کی خدمت میں ادارے کے مثالی کردار کو سراہا۔ محسن نقوی نے مرکز مصطفیٰ کے طلبا کے مثبت کردار کی تعریف بھی کی۔
سرپرست اعلیٰ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کشیدہ صورتحال میں پاکستانی قوم کندن بن کر نکلی ہے، طاقتور دشمن کو پاکستانی قوم نے اپنی یکجہتی سے عبرتناک شکست دی۔
انہوں نے کہا کہ عظیم فتح پراللہ تعالٰی کا شکر بجا لاتے ہیں، فتح میزائلوں نے دشمن پر ہیبت طاری کر دی اور نام نہاد طاقت پاش پاش کر کے رکھ دی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ پوری قوم مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ دشمن اب کوئی بھی مس ایڈونچر سے قبل سو بار سوچے گا۔
مولانا ثاقب مصطفائی نے کہا کہ پاکستانی قوم داندن شکن جواب چاہتی تھی جو ہماری بہادر مسلح افواج نے دیا، قوم نے مثالی جرأت اور بے خوفی کا مظاہرہ کیا اور اللہ تعالٰی کی مدد ہمارے ساتھ شامل رہی۔
سرپرست اعلی مرکز مصطفیٰ مولانا محمد رضا ثاقب مصطفائی نے دعا خیر کرائی، جس میں ملکی سالمیت، استحکام اور ترقی و خوشحالی کیلیے اللہ سے مدد بھی مانگی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محسن نقوی نے مرکز مصطفی نے کہا کہ
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :