پی ایس ایکس: کاروبار کا رواں ہفتے مثبت آغاز کے بعد منفی رجحان پر اختتام
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں مثبت آغاز سے شروع ہونے والا کاروباری ہفتے کے اختتام پر منفی رجحان دیکھا گیا۔
گزشتہ روز ختم ہونے والے کاروباری ہفتے 100 انڈیکس 546 پوائنٹس کمی کے ساتھ ایک لاکھ 19 ہزار 102 پوائنٹس پر بند ہوا۔
کاروباری ہفتے میں 100 انڈیکس 2172 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا۔
100 انڈیکس کی ہفتہ وار بلند ترین سطح1 لاکھ 20 ہزار 699 رہی۔
100 انڈیکس کی ہفتہ وار کم ترین سطح1 لاکھ 18ہزار 527 رہی۔
بازار حصص میں ایک ہفتے کے دوران 2.
شیئرز بازار کے ہفتہ وار کاروبار کی مالیت 119 ارب روپے رہی۔
مارکیٹ کیپٹلائزیشن ایک ہفتے میں 4 ارب روپے کم ہوکر 14385 ارب روپے ہے۔
Post Views: 4
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
(سٹی42)سندھ حکومت نے مہنگے داموں پاسکو سے گندم خرید کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
2024 کی پرانی گندم پاسکو سے خرید ی جائے گی،پاسکو نے فی 40 کلو گرام کا 4150 روپے نرخ مقرر کیا ہے۔
پاسکو نے 2 لاکھ 20 ہزار 665 میٹرک ٹن گندم سندھ کو دینے کی پیشکش کی ہے،سندھ نے کاشت کاروں کیلئے 3500 روپے گندم خریداری کا نرخ مقرر کیا تھا لیکن کاشت کاروں نے کم نرخ کی وجہ سے گندم حکومت کو نہیں دی اورسندھ حکومت ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم نہیں خرید سکی۔
سندھ حکومت نےرواں سال 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خرید کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا،اب سندھ حکومت 650 روپے فی 40 کلو گرام 650 روپے مہنگی گندم خرید رہی ہے،سندھ حکومت نے بیرون ممالک سے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
محکمہ خوراک سندھ کے مطابق صوبے کو 16 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم کی قلت کا سامنا ہے، سندھ میں گندم کی ضرورت 65 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن ہے،سندھ میں گندم کی پیداوار 47 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ہوئی ، جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن پرانی گندم کے ذخائر موجود ہیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
محکمہ خوراک کے مطابق اوپن مارکیٹ میں زیادہ نرخ کی وجہ کاشت کاروں سے گندم خرید نہیںسکے،گندم کی قلت کا سامنا کرنے کی وجہ سے گندم درآمد کرنی پڑے گی،سندھ کابینہ نے گزشتہ روز گندم در آمد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔