راولپنڈی:

مہنگی گاڑی میں آنے والے شخص کے پاس سستا فون دیکھ کر مسلح ڈاکو موبائل واپس پھینک کر فرار ہوگیا۔

راولپنڈی کے علاقے رینج روڈ پر موبائل چھیننے کی واردات ہوئی، جس میں مہنگی گاڑی دیکھ کر ڈاکوؤں نے سمجھا کہ آج ان کی عید ہوگی، تاہم گاڑی سے اترنے والے شخص کے پاس سستا یا گھٹیا موبائل فون دیکھ کر مسلح ڈاکو فون واپس پھینک کر فرار ہوگیا۔

واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مہنگی گاڑی میں سوار شخص گاڑی کو پارک کرتا ہے، اسی اثنا میں موٹر سائیکل سوار وہاں سے گزرتے ہیں اور کچھ لمحوں کے بعد دوبارہ آکر صورت حال کا جائزہ لیتے ہیں۔

چہرے پر ماسک لگائے دونوں ڈاکوؤں میں سے ایک موٹر سائیکل پر سوار رہتا ہے جب کہ دوسرا گاڑی پارک کرنے والے شخص کے گاڑی سے نکلتے ہی آتا ہے اور اسلحے کی نوک پر  موبائل فون نکالنے کا کہتا ہے۔

اسی اثنا میں مسلح ڈاکو کو گاڑی کے پاس کھڑے ایک نوجوان سے موبائل فون چھینتے بھی دیکھا جا سکتا ہے جب کہ دھکا دینے کے دوران مسلح ڈاکو گاڑی سے اترنے والے شخص کو بھی موبائل فون نکالنے کا کہتا ہے، جس پر وہ جیب سے اپنا فون نکال کر دیتا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فون کے معیاری (مہنگا) نہ ہونے پر ڈاکو فون کو واپس ڈرائیور کی طرف اچھال کر (پھینک کر) فرار ہو جاتا ہے۔

دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ اطلاع ملنے کے بعد تحقیقات شروع کردی گئی ہے، ملزمان کو جلد ہی تلاش کرکے گرفتار کرلیا جائے گا۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مہنگی گاڑی موبائل فون مسلح ڈاکو والے شخص

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ