خطے میں امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
دوشنبے :وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خطے میں امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے، مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔
جمعرات کے روز وزیراعظم شہباز شریف نے دوشنبے میں تاجک صدر امام علی رحمان سے ملاقات کی، وزیراعظم نے تاجک صدر کو جنوبی ایشیا کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا، دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کے خلاف بھارتی جارحیت جنگی اقدام تھا، عالمی برادری غیر ذمہ دارانہ رویے پر بھارت سے جواب طلبی کرے، پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے تاہم اپنی خود مختاری اور آزادی کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے، خطے میں امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے، وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ روابط بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں، سی پیک کو وسطی ایشیا تک توسیع دینا چاہتے ہیں۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے تاجک صدر کی واٹر ڈپلومیسی کی تعریف کی اور انہیں گلیشیئرز سے متعلق عالمی کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔
تاجک صدر امام علی رحمان نے وزیراعظم شہباز شریف سے گفتگو میں کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے حامی ہیں، امن و استحکام کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کا قائدانہ کردار قابل تعریف ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ طرفہ تعاون کے فروغ کے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمارا دوست ملک ہے، دونوں ممالک کے درمیان زراعت، صنعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کا فروغ اہمیت کا حامل ہے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف نے مسئلہ کشمیر کا حل تاجک صدر کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت مہاجرین کی نشستیں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کی تعداد کم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بڑے مطالبے کو تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت مہاجرین کی نشستیں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کی تعداد کم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے مہاجرین کی نشستوں میں کمی سے متعلق اپنا مؤقف آزاد کشمیر حکومت تک پہنچا دیا ہے، جبکہ وزیراعظم آزاد کشمیر جلد جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے رابطہ کر کے وفاقی حکومت کے پیغام سے آگاہ کریں گے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وفاق کی جانب سے ویلی کی نشستوں میں اضافے اور مہاجرین کی نشستوں میں کمی کی تجویز زیر غور ہے، جس کا مقصد نمائندگی کے موجودہ تناسب میں توازن پیدا کرنا ہے۔
دوسری جانب اس معاملے پر سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں اور کل ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کے اجلاس میں اہم فیصلوں اور مشترکہ لائحہ عمل کے اعلان کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین اور ویلی نشستوں کے تناسب سے متعلق کسی بھی فیصلے کے آزاد کشمیر کی سیاسی ساخت اور انتخابی نظام پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے باعث تمام متعلقہ حلقے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔