کوئٹہ، کوئلہ کان کے قریب دھماکے میں دو افراد جانبحق، کالعدم تنظیم پر الزام
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
متاثرہ شخص قاہر بازئی نے بتایا کہ ان سے کالعدم تنظیم نے ٹیکس طلب کیا۔ جس پر انکار کرنے پر بارودی مواد نصب کیا گیا۔ واقعہ میں دو افراد جانبحق اور سات زخمی ہو گئے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک میں کلی منگل کے مقام پر کوئلہ کان کے قریب دھماکے میں دو افراد جان بحق اور سات افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ واقعہ میں ملوث عناصر کو بے نقاب کریں گے۔ دوسری جانب متاثرہ خاندان کے ایک فرد قاہر خان بازئی نے سول ہسپتال میں ایک صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے واقعہ کا ذمہ دار کالعدم تنظیم کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ان سے ٹیکس طلب کیا گیا تھا۔ ایف سی والوں کو کوئلے کی ایک گاڑی پر چھ ہزار کا ٹیکس پہلے ہی دے رہے ہیں، کالعدم تنظیم کو بھی دینگے تو فائدہ نہیں رہتا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس دینے سے انکار پر مبینہ افراد نے بارودی مواد نصب کیا۔ جس سے میرے دو چچا بھی جانبحق ہو گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کالعدم تنظیم
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔