بجٹ میں زراعت اور بزنس کمیونٹی کیلئے کوئی ریلیف نہیں: پی بی ایف
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
—فائل فوٹو
پاکستان بزنس فورم (پی بی ایف) نے بجٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ میں زراعت اور بزنس کمیونٹی کے لیے کوئی ریلیف نہیں۔
ایک بیان میں چیف آرگنائزر پی بی ایف احمد جواد نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے وژن کے برعکس زرعی شعبہ کو بجٹ میں پھر کچھ نہیں ملا، زرعی شعبے کا 4.5 فیصد ہدف حکومت کیسے حاصل کرے گی؟
انہوں نے کہا کہ اس ٹیم کا چوتھا بجٹ ہے لیکن ایکسپورٹ گروتھ کی جھلک بجٹ میں نہیں دکھائی دی، سپر ٹیکس میں خاطر خواہ کمی کی توقع تھی اس پر بھی آٹے میں نمک جیسا ریلیف ملا۔
اسلام آبادقومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2025-26ء کا 17.
احمد جواد کا کہنا تھا کہ 8 ہزار ارب روپے سے زائد صوبوں کے لیے مختص کرنے پر نظرثانی ہونی چاہیے، صوبے دفاعی بجٹ اور قومی منصوبوں میں اپنا حصہ ڈالیں۔
چیف آرگنائزر پی بی ایف نے یہ بھی کہا کہ پنجاب حکومت اس وقت کیش سر پلس ہے، اپنا کچھ حصہ وفاق کو واپس دے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔