Express News:
2026-06-03@06:43:54 GMT

اور اب قطر نشانے پر ہے

اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT

وہ جو کہتے ہیں کہ کسی بھی لڑائی میں سب سے پہلی ہلاکت سچائی کی ہوتی ہے۔موجودہ اسرائیلی جارحیت نے اس مقولے کو گزشتہ پونے تین برس میں ایک بار نہیں بیسیوں بار سچ کر دکھایا ہے۔

پہلا جھوٹ جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملے کے دو روز بعد نو اکتوبر دو ہزار تئیس کو سامنے آیا جب اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ نے کہا کہ حماس کے حملہ آوروں نے چالیس بچوں کے سر قلم کر دیے اور کئی عورتوں کو ریپ کیا۔اس وقت کے امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی آنکھیں بند کر کے ان الزامات کو کم از کم دو بار توتے کی طرح دھرایا۔ آج تک ان الزامات کے حق میں ایک ثبوت بھی سامنے نہیں لایا جا سکا۔یہ اتنا سفید جھوٹ تھا کہ اب اسرائیلی بھی اسے دوہرانے سے کتراتے ہیں۔

غزہ کے اسپتالوں کو یہ کہہ کر تباہ کیا گیا کہ یہ شفا خانے نہیں بلکہ حماس کے کنٹرول روم ہیں۔یہاں حماس اپنا اسلحہ ذخیرہ کرتی ہے اور ان عمارتوں کے نیچے خفیہ سرنگیں ہیں۔ان اسپتالوں کے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکس کو گرفتار کر کے حماس کی ’’ اسپتالی ‘‘ فوجی سرگرمیوں کے بارے میں انتہائی پرتشدد پوچھ گچھ کی گئی۔ متعدد ڈاکٹر اور پیرا میڈکس تشدد کے سبب شہید ہو گئے۔بہت سے اب بھی عقوبت خانوں میں ہیں یا انھیں رہائی کے بعد ڈرون بمباری کر کے پورے پورے کنبے سمیت شہید کر دیا گیا۔مگر اصل دعوی کے بارے میں اب تک کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔

تیسرا بدترین الزام اقوامِ متحدہ کے امدادی ادارے انرا پر عائد کیا گیا کہ اس کے بارہ ملازم سات اکتوبر کی دہشت گردی میں شریک تھے۔اس الزام پر امریکا ، یورپی یونین حتی کہ جاپان نے بھی آنکھیں بند کر کے یقین کر لیا۔اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایک قانون کے تحت انرا کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر مقبوضہ علاقوں میں اس کے گوداموں ، دفاتر ، صحت مراکز اور اسکولوں کو یا تو سربمہر کر دیا یا تباہ کر دیا۔

آج تک ان بارہ ’’ دہشت گردوں ‘‘ کے بارے میں کوئی ثبوت نہیں لایا گیا۔کچھ مغربی ممالک نے اپنی جھینپ مٹانے کے لیے چند ماہ بعد انرا کی امداد بحال کر دی۔مگر اب یہ امداد کس کام کی جب ستتر برس سے فلسطینیوں کی غذائی ، طبی اور تعلیمی لائف لائن بنے رہنے والے اس ادارے کا اسرائیل نے ایک سفید جھوٹ کی رسی سے گھلا گھونٹ دیا ہے۔

یہ دیدہ دلیر اسرائیلی کذب بیانی اور الزامات کی چند جھلکیاں ہیں جو فلسطینیوں کی نسل کشی میں سہولت کے لیے مسلسل گھڑے جا رہے ہیں۔

تازہ ترین نشانہ وہ مصالحت کار ممالک ہیں جو حماس اور اسرائیل کے مابین جنگ بندی کے لیے ابتدا سے متحرک ہیں۔ اس ہفتے کے شروع میں اسرائیلی چینل بارہ نے پہلا نشانہ قطر کو بنایا ۔دعوی کیا گیا کہ اسرائیلی فوج کو ’’ کسی عمارت یا سرنگ سے ‘‘ ایسی حساس دستاویزات ملی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ قطر جو بظاہر غیر جانبدار ثالث ہے دراصل حماس کی ’’ دہشت گردی ‘‘ کا پشت پناہ ہے۔

ان دستاویزات میں مبینہ طور پر حماس کے مقتول رہنماؤں اسماعیل حانیہ اور یحیی شنوار کے نوٹس کے علاوہ قطری قیادت سے حماس لیڈرشپ کی ملاقاتوں کا احوال اور ترکی ، ایران اور قطر سے حماس کے روابط اور مصر کی پالیسی سے ناخوشی ظاہر کرنے والے کاغذات بھی ہیں ۔ان تفصیلات سے چینل بارہ نے یہ نتیجہ نکالا کہ قطر حماس کا ’’ شریکِ جرم ‘‘ ہے۔

قطر نے ان ’’ انکشافات ‘‘ کو یکسر جعلی اور امریکا اور قطر کے خصوصی تعلقات میں شگاف ڈالنے اور فلسطینیوں کو کسی بھی طرح کی علاقائی ثالثی اور مدد سے مکمل محروم کرنے کی سستی سازش قرار دیا ہے۔

 قطر اگر یہ وضاحت نہ بھی کرتا تو مجھ جیسے عقل سے پیدل کے ذہن میں بھی یہ ’’ انکشافات ‘‘ پڑھنے کے بعد پہلا سوال یہی آیا کہ وہ اسرائیل جو ہائی ٹیک دنیا کا جانا مانا لیڈر ہے مگر اس کے پاس ایک بھی اچھا اسکرپٹ رائٹر نہیں جو جھوٹ کو سچ کا ایسا لبادہ پہنا سکے جس پر پوری نہیں تو کم ازکم آدھی دنیا تو یقین کر ہی لے۔

ان ’’ انکشافات ‘‘ کے پیچھے اصل کہانی یہ ہے کہ ان دنوں عدلیہ کے حکم پر اسرائیلی تفتیشی ادارے نیتن یاہو کے اسٹاف کے دو ارکان سے اس بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں کہ انھوں نے اسرائیلی میڈیا میں مصر کی ساکھ نیچے کرنے اور قطر کا امیج ابھارنے کے لیے قطری حکام سے پیسے لیے ہیں۔

’’ قطر گیٹ ‘‘ کے ملزموں میں وزیرِ اعطم نیتن یاہو کے سابق مشیر جوناتھن اوریک اور سابق ترجمان ایلی فیلڈشٹائن ہیں۔ان کے خلاف منی لانڈرنگ ، رشوت ، فراڈ ، غیر ملکی ایجنٹوں سے روابط اور سرکاری اعتماد پامال کرنے کے الزامات بھی زیرِ تفتیش ہیں۔

خود ان دونوں ملزموں کے باس نیتن یاہو کو بھی کرپشن کے متعدد سنگین الزامات کا سامنا ہے۔اگر وزیرِ اعظم سرکاری عہدے پر نہ رہیں تو جیل بھی جا سکتے ہیں۔اسی لیے بقول اسرائیلی حزبِ اختلاف اپنی گردن بچانے کے لیے نیتن یاہو ہر صورت میں جنگی ماحول برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

قطر پر تازہ الزامات کا تعلق نیتن یاہو کے اسی ’’ کھال بچاؤ ‘‘ ڈرامے سے ہے۔مگر ان الزامات میں اس لیے بھی دم نہیں لگتا کہ سب دنیا جانتی ہے کہ قطر ان چند ممالک میں شامل ہے جو فلسطینی اتھارٹی کو اپنے پاؤں پر کھڑا رکھنے کے لیے اسرائیل کی رضامندی سے مالی امداد دیتے ہیں۔

قطر سات اکتوبر سے پہلے غزہ میں حماس انتظامیہ کے ملازمین کو بطور فلسطینی اتھارٹی کے کارکن تنخواہوں کا بجٹ فراہم کرتا رہا ہے۔اس کے علاوہ غزہ میں ایندھن ، صحت اور تعلیم کے کئی منصوبے بھی قطر کی امداد سے رواں تھے۔یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ حماس کی جلاوطن قیادت قطر میں مقیم رہی ہے۔شام کے معزول حکمران بشار الاسد اور ترکی نے بھی حماس کی قیادت کو ملک میں رہنے کی اجازت دی۔یہ راز بھی سب جانتے ہیں کہ ایران اور حزب اللہ حماس کے کھلے حمائیتی ہیں۔ قطر کی شام اور لیبیا سمیت مختلف عرب ریاستوں میں اپنی حامی ملیشیاؤں کی پشت پناہی بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ۔

ساتھ ہی ساتھ قطر امریکی سینٹرل کمانڈ کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ٹرمپ کے حالیہ دورے میں قطر اور امریکا کے درمیان ایک اعشاریہ دو کھرب ڈالر کے اقتصادی اور دفاعی خریداری کے معاہدوں پر دستخط ہوئے۔قطر نے امریکی صدر کو ایک طیارہ ’’ بطور ایرفورس ون ‘‘ تحفے میں پیش کیا ۔ایسے میں اسرائیلی ذرایع ابلاغ میں حماس کی ’’ دھشت گردی ‘‘ میں قطری سرمایہ کاری کی خبریں کامیڈی کے اس ادنی معیار پر بھی پوری نہیں اتر رہیں جن پر کوئی بھی شخص ہنسنا تو دور بمشکل مسکرا بھی سکے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.

com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نیتن یاہو حماس کے کیا گیا حماس کی کے لیے ہیں کہ

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان