ریئر ارتھ میٹلز کی برآمدات پر چین کا اتنظام چین کو ایک ذمہ دار ملک ظاہر کرتا ہے، چینی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
ریئر ارتھ میٹلز کی برآمدات پر چین کا اتنظام چین کو ایک ذمہ دار ملک ظاہر کرتا ہے، چینی میڈیا WhatsAppFacebookTwitter 0 18 June, 2025 سب نیوز
بیجنگ :اپریل 2025 کے بعد سے ، چین نے ریئر ارتھ میٹلز سے متعلق اشیاء پر اپنے برآمدی کنٹرول کو اپ گریڈ کیا ہے ، جس سےبہت سی ایسوسی ایشنز ،یہاں تک کہ بین الاقوامی برادری میں بھی شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں۔ بعض مغربی ذرائع ابلاغ اسے تجارتی تنازعات سے نمٹنے کے لیے چین کے “قاتل ہتھیار” یا “سفارتی کارڈ” کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن اگر ہم اسے ریئر ارتھ میٹلز کی صنعت کے ترقیاتی قانون اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لحاظ سے دیکھیں تو یہ واضح ہوگا کہ چین کا یہ اقدام دراصل قانون کی حکمرانی کی روح کے مطابق ملک کی پائیدار ترقی کا تحفظ کرنے اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو کھلے ذہن کے ساتھ پورا کرنے کے لئے ایک بڑے ملک کے طور پر چین کی ذمہ داری کو ظاہر کرتا ہے۔اس ذمہ داری کا اظہار سب سے پہلے قومی حالات اور قانون کی حکمرانی کی بنیاد پر وسائل کی پائیدار ترقی کو یقینی بنانے میں ہوتا ہے۔
ریئر ارتھ میٹلز کی کان کنی اور ریفائننگ ایک انتہائی آلودگی پھیلانے والی صنعت ہے اور چین نے ماضی میں وسیع پیمانے پر کان کنی کی بھاری قیمت ادا کی ہے.
چینی حکومت نے 2011 میں “ریئر ارتھ میٹلز کی صنعت کی پائیدار اور صحت مند ترقی کو فروغ دینے کے بارے میں متعدد آراء” کا اجراء شروع کرکے جون 2024 میں “ریئر ارتھ کے انتظام پر ضوابط” جاری کئے اور آخر کار 2025 میں برآمدی کنٹرول کے ساتھ “مقدار پر کنٹرول” اور “پورے عمل کی ٹریسیبلٹی” کے قانون پر مبنی گورننس سسٹم تشکیل دیا۔ دنیا میں ریئر ارتھ کے سب سے بڑے ذخائر اور پیداوار والے ملک کی حیثیت سے ، چین کا اقدام بلاشبہ سنگین ماحولیاتی نقصانات کے تکلیف دہ سبق کا ایک منطقی جواب ہے ، اور یہ وسائل کی پائیدار ترقی کے لئے ذمہ دارانہ رویے کو ظاہر کرتا ہے۔اس ذمہ داری کا اظہار بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری اور شفاف قوانین کے ذریعے مشترکہ سلامتی کے تحفظ میں بھی ہوتا ہے۔
ریئر ارتھ میٹلز کو جدید صنعت کے “وٹامنز” کے طور پر جانا جاتا ہے، اور عسکری اور جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ان کی جگہ نہیں لی جا سکتی۔ چین کے ریئر ارتھ میٹلز کے مستقل مقناطیسی مواد نے ، جو دنیا کا 90فیصد سے زیادہ حصہ رکھتے ہیں ، حالیہ برسوں میں نئی توانائی اور برقی گاڑیوں جیسی ابھرتی ہوئی صنعتوں میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ دوہرے استعمال کے شعبے میں کلیدی مواد کی برآمدات پر منظم نگرانی ہمیشہ سے ایک “بین الاقوامی عمل” رہی ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین، برآمدی کنٹرول کے لئے چار بین الاقوامی کثیر الجہتی میکانزم کے اراکین کی حیثیت سے جن میں واسینار انتظامات (ڈبلیو اے)، میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول ریجیم (ایم ٹی سی آر)، نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) اور آسٹریلیا گروپ (اے جی) شامل ہیں طویل عرصے سے 35 اقسام کے اسٹریٹجک معدنی مواد کو کنٹرول کرتے رہے ہیں. چین کی نگرانی نہ صرف اپنی قومی سلامتی کا بہتر تحفظ کرے گی اور جوہری عدم پھیلاؤ جیسی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرے گی بلکہ یہ اعلیٰ معیار کی ترقی اور سلامتی کو مربوط کرنے کے چین کے انتظامی فلسفے کی عکاسی بھی کرتی ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ برآمدی نگرانی کی پالیسی کا نفاذ ہوتے ہی چین نے اہل غیر ملکی درخواستوں کے لئے “گرین چینل” قائم کیا ۔ چین کی وزارت تجارت نے 12 جون کو کہا کہ اس نے قانون کے مطابق اہل درخواستوں کی مخصوص تعداد کی منظوری دے دی ہے۔
بی ایم ڈبلیو اور ووکس ویگن جیسی جرمن کمپنیوں کو اپریل اور مئی میں ریئر ارتھ میٹلز کی فراہمی کے لائسنس دیے گئے تھے۔ چینی اور امریکی صدور کے درمیان ٹیلیفونک بات چیت کے بعد چین نے جی ایم اور فورڈ جیسی امریکی کمپنیوں کے سپلائرز کو عارضی برآمدی لائسنس بھی جاری کیے۔ یہ شفاف اور منظم اقدام بین الاقوامی برادری کے شکوک و شبہات کے لئے سب سے طاقتور وضاحت ہے۔یہ ذمہ داری بالآخر بنی نوع انسان کے مشترکہ مستقبل کی طرف اشارہ کرتی ہے، یعنی تعاون کے جذبے کے ساتھ وسائل کے پرامن استعمال کو فروغ دیا جائے۔ ” سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کو فروغ دینے کے لئے ایک اہم وسائل” کے طور پر، ریئر ارتھ میٹلز کی تقسیم عالمی سبز تبدیلی اور سائنسی اور تکنیکی انقلاب کی کامیابی یا ناکامی سے تعلق رکھتی ہے. ریئر ارتھ میٹلز کو “وسائل کی اجارہ داری” یا “زیرو سم گیم” میں یا سودے بازی کی چپ کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے ، چین “قواعد اور کھلے پن” کے فریم ورک کے تحت عقلی تعاون کا خواہاں ہے۔
چین نے اپنے اقدامات کے ذریعے یہ واضح کر دیا ہے کہ جب تک یہ چین کی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کو نقصان نہیں پہنچائیں گے ، ریگولیٹری اقدامات معمول کی تجارت اور عالمی صنعتی چینز کے استحکام میں کبھی رکاوٹ نہیں بنیں گے۔چین قانون کی حکمرانی کے ساتھ وسائل کا تحفظ کرتا ہے اور کھلے ذہن کے ساتھ مشترکہ مفادات کو فروغ دیتا ہے ، جو بلاشبہ عالمی اہم وسائل کی حکمرانی میں “چینی دانشمندی” کا واضح کردار ہے۔ اس قسم کی حکمرانی کی حکمت کی قدر کسی کو روکنا نہیں بلکہ بنی نوع انسان کی مشترکہ ترقی کے لیے پائیدار قوت محرکہ کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ فراہم کرنا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمالیاتی نگران قوانین اور دیگر احتیاطی میکانزم کو مزید مستحکم کیا گیا ہے، گورنر چینی مرکزی بینک مالیاتی نگران قوانین اور دیگر احتیاطی میکانزم کو مزید مستحکم کیا گیا ہے، گورنر چینی مرکزی بینک چین اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان تعاون کے معیار کو بہتر بنانے کا نیا باب رقم کیا گیا ہے ، وزارت خارجہ چین نے وسطی ایشیا کے پانچ ممالک کے ساتھ تعاون کے سلسلے میں اتفاق رائے حاصل کر لیا، چینی میڈیا ایف بی آر کو نان فائلرز کو زبردستی رجسٹر کرنے کا اختیار مل گیا چین اور وسطی ایشیائی ممالک نے بیلٹ اینڈ روڈ کی مشترکہ تعمیر پر مزید گہرائی سے عمل درآمد کیا ہے، چینی صدر ہم نے چین۔وسطی ایشیا روح کی جستجو کی ہے اور اسے تشکیل دیا ہے، چینی صدرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ظاہر کرتا ہے چین کا
پڑھیں:
معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
میکسیکو کی معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر پاؤلا مارکیز اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائی گئی ہیں، جس کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 30 سالہ پاؤلا مارکیز کی لاش 30 مئی کو ان کے گھر کے اندر سے اس وقت برآمد ہوئی جب ایک اہلِ خانہ نے انہیں بے ہوش حالت میں پایا۔ بعد ازاں طبی عملے نے موقع پر ہی ان کی موت کی تصدیق کر دی۔
ابتدائی تحقیقات میں پولیس مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے جن میں خودکشی اور ممکنہ قتل دونوں امکانات شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے تمام شواہد کا باریک بینی سے تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق پاؤلا مارکیز سوشل میڈیا پر خاصی مقبول تھیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر ان کے فالوورز کی تعداد 20 لاکھ سے زائد تھی۔ وہ زیادہ تر لائف اسٹائل، سفر اور پرتعیش زندگی سے متعلق مواد شیئر کرتی تھیں۔
ان کی ایک حالیہ ٹک ٹاک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے اپنی زندگی سے متعلق مایوس کن انداز میں گفتگو کی تھی۔ ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نے جو کچھ چاہا وہ مانگا، لیکن شاید الٹا مانگا، کیونکہ جو تھوڑا بہت میرے پاس تھا وہ بھی ہاتھ سے نکل رہا ہے۔‘‘
افسوسناک خبر کے بعد ان کے والد ہیرکولیس مارکیز بالڈیرس نے فیس بک پر جذباتی پیغام میں اپنی بیٹی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ان کی ’’پیارا بیٹی پاؤلا اب اس دنیا میں نہیں رہی‘‘ اور وہ دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں بہترین مقام عطا کرے۔
والد کی پوسٹ پر صارفین کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ بھی جاری رہا، جہاں مداحوں اور قریبی افراد نے اہلِ خانہ سے ہمدردی اور صبر کی دعا کی۔ بعد ازاں اہلِ خانہ نے تصدیق کی کہ پاؤلا مارکیز کی آخری رسومات یکم جون کو سان لوئیس پوٹوسی کے علاقے ہویچی ہوان میں ادا کی گئیں۔
پاؤلا مارکیز نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹوں میں دنیا بھر کے سفر، لگژری ٹرپس اور ایونٹس کی جھلکیاں شیئر کرکے بڑی شہرت حاصل کی تھی۔ ان کے انسٹاگرام بائیو میں درج ایک جملہ ’’انسٹاگرام اصل زندگی نہیں ہے‘‘ بھی ان کی سوچ کی عکاسی کرتا تھا۔