ضم شدہ اضلاع کے 267ارب واجب الادا، وفاق فوری فنڈز منتقل کرے، بیرسٹر سیف کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
ضم شدہ اضلاع کے 267ارب واجب الادا، وفاق فوری فنڈز منتقل کرے، بیرسٹر سیف کا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 18 June, 2025 سب نیوز
پشاور(آئی پی ایس )خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ضم شدہ اضلاع کے لیے نیشنل فنانس کمیشن کے تحت مختص کردہ 350 ارب روپے میں سے باقی ماندہ 267 ارب روپے فوری طور پر خیبرپختونخوا کو منتقل کرے۔ انہوں نے وفاق پر الزام عائد کیا کہ وہ مسلسل تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے جس کے باعث قبائلی اضلاع کی ترقی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ رواں مالی سال 25-2024 کے دوران وفاق نے ضم اضلاع کے لیے 350 ارب روپے مختص کیے تھے تاہم گزشتہ 10 ماہ میں صرف 83 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں جبکہ 267 ارب روپے تاحال واجب الادا ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ ضم شدہ اضلاع کی ترقی اور انہیں قومی دھارے میں شامل کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے لیکن وفاق کی غیر سنجیدگی اس نازک قومی معاملے کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
ڈاکٹر سیف کا کہنا تھا کہ انضمام کا اصل مقصد قبائلی علاقوں کو قومی ترقی کا حصہ بنانا تھا مگر وفاق کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی سے یہ مقصد شدید خطرے میں پڑ گیا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ ضم شدہ اضلاع کے فنڈز روکنا درحقیقت دہشت گردی کو فروغ دینے کے مترادف ہے، جب تک ان علاقوں میں ترقیاتی منصوبے شروع نہیں ہوتے تب تک دہشت گردی کے خاتمے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ڈاکٹر سیف نے زور دیا کہ وفاق این ایف سی ایوارڈ کے تحت مختص تمام فنڈز فوری طور پر خیبرپختونخوا حکومت کو منتقل کرے تاکہ قبائلی عوام کو بنیادی سہولیات، روزگار، تعلیم اور صحت جیسی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایران میں پھنسے 107 پاکستانیوں کو لے کر پی آئی اے کی پہلی خصوصی پرواز اسلام آباد پہنچ گئی ایران میں پھنسے 107 پاکستانیوں کو لے کر پی آئی اے کی پہلی خصوصی پرواز اسلام آباد پہنچ گئی پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کی جانب سے بھارتی عملے کو طبی امداد کی فراہمی معاشرے میں تقسیم، انتشار کی بڑی وجہ نفرت انگیز تقاریر ،تعصب اور تنگ نظری کو ہر محاذ پر شکست دینی ہے، مریم نواز مشرق وسطی میں امریکی شہریوں کی مدد کیلئے ٹاسک فورس قائم لیبیا کے قریب تارکین وطن کی ایک اور کشتی کو حادثہ، کم از کم پانچ پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کا خدشہ نوجوان نسل کو اداروں کیخلاف منفی پروپیگنڈے کیلئے پیسے نہیں دیے، عظمی بخاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ضم شدہ اضلاع کے
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔