ایران اسرائیل جنگ : ملک میں ایل پی جی کے سنگین بحران کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) ایران اسرائیل جنگ کے پیش نظر ملک میں ایل پی جی کے سنگین بحران کا خدشہ ہے، جس سے گھریلوسلنڈرکی قیمت 6 ہزار روپے سے تجاوز کرسکتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین ایسوسی ایشن عرفان کھوکھر نے ایران اسرائیل کشیدگی کے باعث ایل پی جی کے سنگین بحران کا خدشہ ظاہر کردیا۔
چیئرمین ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ ملک میں ایل پی جی شارٹ فال شروع ہونے کا خدشہ ہے، جس سے گھریلوسلنڈرکی قیمت6 ہزار روپے سے تجاوز کر سکتی ہے۔
عرفان کھوکھر نے کہا کہ فی کلو ایل پی جی 500 روپے تک پہنچ سکتی ہے اور کمرشل سلنڈر23 ہزار روپے تک جا سکتا ہے۔
ان کا مزید بتانا تھا کہ یومیہ کھپت 6 ہزارمیٹرک ٹن ہے،موجودہ ذخیرہ ناکافی ہے، پورٹ قاسم پر ایل پی جی کا کل اسٹور 13ہزارمیٹرک ٹن ہے۔
چیئرمین ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ پاک ایران بارڈر سے 100 ہزار میٹرک ٹن ماہانہ درآمد بندہے، وزیراعظم اور وزیر پٹرولیم کو صورتحال سے متعلق درخواست ارسال کردی ہے۔
انہوں نے او جی ڈی سی ایل کی مقامی ایل پی جی پروڈکشن کو حکومتی کنٹرول میں لانے کی ضرورت پر بھی زور دیا، الزام لگاتے ہوئے کہا اس وقت تقسیم کے چینلز پر “ایل پی جی مافیا” کا غلبہ ہے۔
مزیدپڑھیں:انتہائی خفیہ اور ایمرجنسی حالات میں استعمال ہونے والا ’ڈومز ڈے‘ طیارہ واشنگٹن پہنچا دیا گیا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔