ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے سے واشنگٹن کی ساکھ متاثر ہوئی ہے. چین
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
نیویارک(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جون ۔2025 )چین نے کہا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے سے واشنگٹن کی ساکھ متاثر ہوئی ہے اور بیجنگ کو تشویش ہے کہ یہ صورت حال قابو سے باہر ہو سکتی ہے چینی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق اقوام متحدہ میں چین کے سفیر فو کونگ کا کہنا تھا کہ تمام فریق طاقت کے استعمال کی خواہش کو قابو میں رکھیں تنازعات کو مزید خراب کرنے سے گریز کریں اور جلتی پر تیل نہ ڈالیں.
(جاری ہے)
فو کونگ نے کہا کہ تمام فریقین خاص طور پر اسرائیل صورت حال کی سنگینی سے بچنے اور جنگ کے پھیلاﺅکو روکنے کے لیے فوری طور پر جنگ بندی کریں انہوں نے کہا کہ حملے سے ایران کو نقصان پہنچا لیکن امریکہ کی ساکھ بھی خراب ہوئی، نہ صرف ایک ملک کے طور پر بلکہ بین الاقوامی مذاکرات کے فریق کے طور پر بھی. اقوم متحدہ میں روس کے مستقل مندوب ویسلی نیبینزیا نے کہا کہ ایران پر حملے سے کسی کو علم نہیں کہ کیا تباہی آسکتی ہے جب کہ امریکا کو سفارت کاری میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روسی مندوب کا کہنا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام آئی اے ای اے کے مطابق کام کررہا ہے. انہوں نے ایران کے خلاف امریکا کے حملے غیرذمہ دارانہ اور خطرناک اقدامات قراردیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں مزید عدم استحکام پیدا ہوگا روسی مندوب نے ایران کے جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو سفارت کاری میں کوئی دلچسپی نہیں. دوسری جانب سلامتی کونسل کے اجلاس میں اسرائیلی مندوب نے کہا کہ امریکا نے حملے کرکے تاریخ کا دھارا بدل دیا ہے دنیا کو ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں پر امریکا کا شکر گزار ہونا چاہیے اسرائیلی نمائندے نے امریکی حملوں کی مذمت کرنے والے ممالک کا نام لیے بغیر اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس وقت کہاں تھے جب ایران اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھا رہا تھا انہوں نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں نتائج حاصل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جوہری تنصیبات پر نے کہا کہ حملے سے
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔