امریکا کو ایرانی ہیکرز کے سائبر حملوں کا خوف، تھریٹ الرٹ جاری کردیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد، امریکی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران سے وابستہ ہیکرز امریکی نیٹ ورکس کو سائبر حملوں کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔
اس سلسلے میں امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے نیشنل ٹیررازم ایڈوائزری سسٹم نے ایک تھریٹ الرٹ جاری کیا ہے۔
اگرچہ الرٹ میں کسی مخصوص سائبر حملے یا ہدف کا ذکر نہیں کیا گیا، تاہم یہ انتباہ کیا گیا ہے کہ ایران سے منسلک ہیکرز کی جانب سے امریکی نیٹ ورکس پر چھوٹے یا درمیانے درجے کے سائبر حملے کیے جا سکتے ہیں۔
الرٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکومت سے وابستہ سائبر گروپس بھی امریکی مفادات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی قیادت اُن امریکی شخصیات کے خلاف بھی سائبر کارروائی کر سکتی ہے، جنہیں وہ 2020 میں ایک اعلیٰ ایرانی جنرل کی ہلاکت کا ذمہ دار سمجھتی ہے۔
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے یقین دلایا ہے کہ امریکی سیکیورٹی ادارے موجودہ صورت حال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔