امریکا کو ایرانی ہیکرز کے سائبر حملوں کا خوف، تھریٹ الرٹ جاری کردیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد، امریکی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران سے وابستہ ہیکرز امریکی نیٹ ورکس کو سائبر حملوں کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔
اس سلسلے میں امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے نیشنل ٹیررازم ایڈوائزری سسٹم نے ایک تھریٹ الرٹ جاری کیا ہے۔
اگرچہ الرٹ میں کسی مخصوص سائبر حملے یا ہدف کا ذکر نہیں کیا گیا، تاہم یہ انتباہ کیا گیا ہے کہ ایران سے منسلک ہیکرز کی جانب سے امریکی نیٹ ورکس پر چھوٹے یا درمیانے درجے کے سائبر حملے کیے جا سکتے ہیں۔
الرٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکومت سے وابستہ سائبر گروپس بھی امریکی مفادات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی قیادت اُن امریکی شخصیات کے خلاف بھی سائبر کارروائی کر سکتی ہے، جنہیں وہ 2020 میں ایک اعلیٰ ایرانی جنرل کی ہلاکت کا ذمہ دار سمجھتی ہے۔
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے یقین دلایا ہے کہ امریکی سیکیورٹی ادارے موجودہ صورت حال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔