سعودی عرب کا ایران اسرائیل جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
سعودی وزارت خارجہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے، اور فریقین کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے کی گئی سفارتی کوششوں کو سراہا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ نے اُمید ظاہر کی ہے کہ آنے والے دنوں میں فریقین جنگ سے گریز کرتے ہوئے، طاقت کے استعمال حتیٰ کہ اس کی دھمکی سے بھی اجتناب کریں گے، اور یہ معاہدہ خطے میں امن واستحکام کے قیام میں مددگار ثابت ہوگا۔
بیان میں سعودی عرب نے خطے میں کشیدگی کو روکنے، مکالمے اور سفارتی حل کی حمایت کے اپنے مستقل موقف کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ تنازعات کا حل اقوام کی خودمختاری کے احترام، امن کے قیام اور ترقی وخوشحالی کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل نے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور ایران جنگ بندی پر متفق ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کی ایران کے قطر پر حملے کی مذمت، مکمل یکجہتی کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر کہا کہ میں ان کا کہنا تھا کہ سب کو مبارک ہو، اسرائیل اور ایران کے درمیان مکمل جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران اور اسرائیل پہلے اپنے جاری آخری مشن مکمل کریں گے جس کے بعد اگلے 6 گھنٹوں بعد جنگ بندی کا آغاز ہوجائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ باضابطہ طور پر جنگ بندی کا آغاز پہلے ایران کرے گا اور 12ویں گھنٹے پر اسرائیل بھی جنگ بندی شروع کردے گا جب کہ 24ویں گھنٹے پر ’12 روزہ جنگ‘ کے خاتمے کو دنیا بھر میں باقاعدہ طور پر تسلیم کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ باضابطہ طور پر جنگ بندی کا آغاز پہلے ایران کرے گا اور 12ویں گھنٹے پر اسرائیل بھی جنگ بندی شروع کردے گا جب کہ 24ویں گھنٹے پر جنگ کے خاتمے کو دنیا بھر میں باقاعدہ طور پر تسلیم کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ جنگ بندی کے دوران دونوں فریق پرامن اور باعزت رویہ اختیار کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ سب کچھ منصوبے کے مطابق چلے گا اور ایسا ہوتا ہے تو میں اسرائیل اور ایران دونوں کو ان کی ہمت، استقامت، اور دانشمندی پر مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ انہوں نے ایسی جنگ کو ختم کیا جسے برسوں جاری رکھا جا سکتا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایران اسرائیل جنگ بندی سعودی عرب سعودی وزارت خارجہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایران اسرائیل جنگ بندی ڈونلڈ ٹرمپ انہوں نے گھنٹے پر کہا کہ
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔