Daily Ausaf:
2026-07-24@09:26:06 GMT

ایران پر امریکی حملے کے بعد

اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول ’’امریکی جنگی طیاروں نے ایران میں تین جوہری مقامات پر بمباری کی ہے ۔جس کے بعد امریکہ باقاعدہ طور پر ایران اسرائیل کے درمیان جنگ میں شامل ہوگیا ہے ‘‘۔
اتوار کی صبح اپنے ایک ٹی وی خطاب میں بھی امریکی صدر نے کہاتھا کہ’’آج کی رات اب تک کی سب سے سے مشکل اور مہلک رات تھی‘‘۔ امریکہ نے اتوار کی رات کو امریکہ پر ایک خطرناک وار کر کے ایران کے لئے واقعتا مہلک اور مشکل بنا کر تاریخ کا ایک سیاہ باب رقم کردیا۔تاریخ گواہ ہے کہ طاقتور اقوام اکثر اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر کمزور یا ابھرتی ہوئی طاقتوں کو دبانے کے لئے نشانہ بناتی رہی ہیں ۔
مشرق وسطی کے تیل کے وسائل جغرافیائی اہمیت اور عقائد کے حوالے سے بڑی طاقتوں کی مداخلتوں کا ہدف رہی ہیں ۔ایران جو اسلامی دنیا کا اہم خود مختار ملک ہے ،عرصہ درازسے امریکہ کی سینے میں پھانس کی صورت اٹکا رہا ہے بالخصوص اس کی جوہری ٹیکنالوجی کی ترقی نے پورے مغرب کو تشویش میں مبتلا رکھا ہوا ہے ۔ امریکہ کی ممکنہ جارحیت سے ایران کے نیوکلیئر سسٹم کو مکمل طور پر یا جزوی طور پر بھی تباہی کی نذر کر دیا ہے تو یہ بہیمانہ کارروائی نہ صرف خطے کی سیاست میں طوفان اٹھائے گی بلکہ پوری اسلامی دنیا کو کربناک ذہنی اذیت اور،فکری و عملی کشمکش میں مبتلا کر دے گی۔
واقعے کے پس منظر اور نوعیت پر نظر ڈالی جائے تو ایران نے متعدد دہائیوں سے جوہری ٹیکنالوجی کے حصول کی جدو جہد جاری رکھی ہوئی ہے اور وہ بارہا اپنے اس موقف کا اعادہ کرتا،رہا ہے کہ ’’ہم پرامن مقاصد بالخصوص توانائی کے حصول کے لئے یہ پروگرام جاری رکھے ہوئے ہیں‘‘ لیکن امریکہ بہادر اور اس کے نامراد اتحادی ہمیشہ اس مخمصے کا شکار رہے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے میں لگا ہے ۔حالیہ حملے کی تفصیلات ابھی آنا باقی ہیں ،تاہم مختلف ذرائع اس امر کا واشگاف اظہار کر رہے ہیں کہ امریکہ نے سائبر حملے،ڈرون حملے یا میزائل اٹیکس کے ذریعے ایران کے نیو کلیئر پلانٹس کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کیا ہے ۔
امریکہ کے اس اقدام کے پیچھے جو مقاصد کارفرما ہیں ان کی تفصیل یہ ہے کہ امریکہ ایران کو اسرائیل کے لئے بہت بڑا خطرہ تصور کرتا ہے ایران کی جوہری ترقی کو اسرائیل کے لئے مستقل روگ ہی نہیں گردانتا بلکہ یہ سمجھتا ہے کہ ایران ، اسرائیل کے سر پر لٹکی ایسی تلوار ہے جو اسے لخت لخت کردے گی۔یوں امریکہ کا مشرق وسطی پر چوہدراہٹ برقرار رکھنے کا خواب بھی چکنا چورہوکر رہ جائے گا۔ایران جیسے خود سر و خود مختار ملک کی طاقت کو کمزور کرنا امریکہ کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔کیونکہ ایرا ن کے کمزور ہوجانے کے بعدخلیجی ریاستوں کا امریکہ پر زیادہ انحصار ہوجائے گا۔اس کے علاوہ ایران کے خلاف کسی بڑے اقدام کے نتیجے میں امریکہ دنیا بھر میں اپنی دفاعی برتری کا تاثر قائم کرنے کا عزم رکھتاہے۔
جہاں تک اس حوالے سے عالم اسلام کے رد عمل کا تعلق ہے یہ تین حصوں میں تقسیم ہو سکتا ہے ۔ کچھ عرب ممالک جو پہلے ہی سے ایران سے خائف تھے ممکن ہے امریکہ کے اس عمل پر خاموشی کی صورت میں امریکی امریکی حمایت کا سندیسہ بھیج دیں۔ترکی ،قطر اور ملیشیا امریکی اقدام کی کھلی مخالفت کریں ۔پاکستان اپنے داخلی اور خارجی دبائو کے پیش نظر محتاط رویہ اپنائے۔ایران ،ترکی ،لبنان ، عراق اور پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں عوامی احتجاج سڑکوں پر نظر آئے۔اس طرح امریکہ مخالف جذبات میں خاطر خواہ اضافہ بھی ہوسکتا ہے مذہبی اور فکری ردعمل کے طورپر علمائے امت اور سکالرز اس حملے کو اسلامی خود مختاری پر سنگین حملے اور ضرب قراردے کر مسلم دنیا کی بیداری کی مہم کا آغاز کردیں ۔اس طرح مشرق وسطی میں عدم استحکام کی نئی لہر امڈ آئے گی عین ممکن ہے چین اور روس ممکنہ طور پر ایران کی حمایت میں سفارتی یا معاشی اقدامات اٹھائیں جس سے نئی سرد جنگ کا ماحول گرم ہو ۔
یہاں اس امر کا خدشہ بھی خارج از امکان نہیں کہ ایران کے جوابی حملوں کی صورت میں ایران اسرائیل کے درمیان کوئی بڑی جنگ ہو جائے۔اس صورت میں عالمی سطح پر تیل کا بحران رونما ہو جس سے عالمی معیشت کووڈ کے بعد ایک بار پھر تہہ بالا ہو۔یوں اسلامی ممالک اب محض ایک سرسری احتجاج یا رسمی مذمت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے بڑھ کر کچھ اقداامات ظہور پذیر ہونگے۔
متحدہ اسلامی بلاک کے قیام بارے آپس میں سنجیدہ مکالمہ ہوسکتا ہے،جس میں سائبر اور نیوکلیئر ٹیکنالوجی میں خود کفالت کی راہ نکالنے کی سوچ پروان چڑھے ۔عالمی اداروں میں موثر آواز بننے کے لئے مشترکہ سفارتی حکمت عملی کی پالیتی مرتب کی جائے۔سب سے بڑھ کر یہ کہ ایران اور سعودی عرب کے بیچ تنائوکو کم کرکے متحدہ اسلامی فورم کی بنیاد رکھنے کا عمل شروع ہو ۔

ر

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: اسرائیل کے ایران کے کہ ایران کے لئے

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران