ایران پر امریکی حملے کے بعد
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول ’’امریکی جنگی طیاروں نے ایران میں تین جوہری مقامات پر بمباری کی ہے ۔جس کے بعد امریکہ باقاعدہ طور پر ایران اسرائیل کے درمیان جنگ میں شامل ہوگیا ہے ‘‘۔
اتوار کی صبح اپنے ایک ٹی وی خطاب میں بھی امریکی صدر نے کہاتھا کہ’’آج کی رات اب تک کی سب سے سے مشکل اور مہلک رات تھی‘‘۔ امریکہ نے اتوار کی رات کو امریکہ پر ایک خطرناک وار کر کے ایران کے لئے واقعتا مہلک اور مشکل بنا کر تاریخ کا ایک سیاہ باب رقم کردیا۔تاریخ گواہ ہے کہ طاقتور اقوام اکثر اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر کمزور یا ابھرتی ہوئی طاقتوں کو دبانے کے لئے نشانہ بناتی رہی ہیں ۔
مشرق وسطی کے تیل کے وسائل جغرافیائی اہمیت اور عقائد کے حوالے سے بڑی طاقتوں کی مداخلتوں کا ہدف رہی ہیں ۔ایران جو اسلامی دنیا کا اہم خود مختار ملک ہے ،عرصہ درازسے امریکہ کی سینے میں پھانس کی صورت اٹکا رہا ہے بالخصوص اس کی جوہری ٹیکنالوجی کی ترقی نے پورے مغرب کو تشویش میں مبتلا رکھا ہوا ہے ۔ امریکہ کی ممکنہ جارحیت سے ایران کے نیوکلیئر سسٹم کو مکمل طور پر یا جزوی طور پر بھی تباہی کی نذر کر دیا ہے تو یہ بہیمانہ کارروائی نہ صرف خطے کی سیاست میں طوفان اٹھائے گی بلکہ پوری اسلامی دنیا کو کربناک ذہنی اذیت اور،فکری و عملی کشمکش میں مبتلا کر دے گی۔
واقعے کے پس منظر اور نوعیت پر نظر ڈالی جائے تو ایران نے متعدد دہائیوں سے جوہری ٹیکنالوجی کے حصول کی جدو جہد جاری رکھی ہوئی ہے اور وہ بارہا اپنے اس موقف کا اعادہ کرتا،رہا ہے کہ ’’ہم پرامن مقاصد بالخصوص توانائی کے حصول کے لئے یہ پروگرام جاری رکھے ہوئے ہیں‘‘ لیکن امریکہ بہادر اور اس کے نامراد اتحادی ہمیشہ اس مخمصے کا شکار رہے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے میں لگا ہے ۔حالیہ حملے کی تفصیلات ابھی آنا باقی ہیں ،تاہم مختلف ذرائع اس امر کا واشگاف اظہار کر رہے ہیں کہ امریکہ نے سائبر حملے،ڈرون حملے یا میزائل اٹیکس کے ذریعے ایران کے نیو کلیئر پلانٹس کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کیا ہے ۔
امریکہ کے اس اقدام کے پیچھے جو مقاصد کارفرما ہیں ان کی تفصیل یہ ہے کہ امریکہ ایران کو اسرائیل کے لئے بہت بڑا خطرہ تصور کرتا ہے ایران کی جوہری ترقی کو اسرائیل کے لئے مستقل روگ ہی نہیں گردانتا بلکہ یہ سمجھتا ہے کہ ایران ، اسرائیل کے سر پر لٹکی ایسی تلوار ہے جو اسے لخت لخت کردے گی۔یوں امریکہ کا مشرق وسطی پر چوہدراہٹ برقرار رکھنے کا خواب بھی چکنا چورہوکر رہ جائے گا۔ایران جیسے خود سر و خود مختار ملک کی طاقت کو کمزور کرنا امریکہ کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔کیونکہ ایرا ن کے کمزور ہوجانے کے بعدخلیجی ریاستوں کا امریکہ پر زیادہ انحصار ہوجائے گا۔اس کے علاوہ ایران کے خلاف کسی بڑے اقدام کے نتیجے میں امریکہ دنیا بھر میں اپنی دفاعی برتری کا تاثر قائم کرنے کا عزم رکھتاہے۔
جہاں تک اس حوالے سے عالم اسلام کے رد عمل کا تعلق ہے یہ تین حصوں میں تقسیم ہو سکتا ہے ۔ کچھ عرب ممالک جو پہلے ہی سے ایران سے خائف تھے ممکن ہے امریکہ کے اس عمل پر خاموشی کی صورت میں امریکی امریکی حمایت کا سندیسہ بھیج دیں۔ترکی ،قطر اور ملیشیا امریکی اقدام کی کھلی مخالفت کریں ۔پاکستان اپنے داخلی اور خارجی دبائو کے پیش نظر محتاط رویہ اپنائے۔ایران ،ترکی ،لبنان ، عراق اور پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں عوامی احتجاج سڑکوں پر نظر آئے۔اس طرح امریکہ مخالف جذبات میں خاطر خواہ اضافہ بھی ہوسکتا ہے مذہبی اور فکری ردعمل کے طورپر علمائے امت اور سکالرز اس حملے کو اسلامی خود مختاری پر سنگین حملے اور ضرب قراردے کر مسلم دنیا کی بیداری کی مہم کا آغاز کردیں ۔اس طرح مشرق وسطی میں عدم استحکام کی نئی لہر امڈ آئے گی عین ممکن ہے چین اور روس ممکنہ طور پر ایران کی حمایت میں سفارتی یا معاشی اقدامات اٹھائیں جس سے نئی سرد جنگ کا ماحول گرم ہو ۔
یہاں اس امر کا خدشہ بھی خارج از امکان نہیں کہ ایران کے جوابی حملوں کی صورت میں ایران اسرائیل کے درمیان کوئی بڑی جنگ ہو جائے۔اس صورت میں عالمی سطح پر تیل کا بحران رونما ہو جس سے عالمی معیشت کووڈ کے بعد ایک بار پھر تہہ بالا ہو۔یوں اسلامی ممالک اب محض ایک سرسری احتجاج یا رسمی مذمت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے بڑھ کر کچھ اقداامات ظہور پذیر ہونگے۔
متحدہ اسلامی بلاک کے قیام بارے آپس میں سنجیدہ مکالمہ ہوسکتا ہے،جس میں سائبر اور نیوکلیئر ٹیکنالوجی میں خود کفالت کی راہ نکالنے کی سوچ پروان چڑھے ۔عالمی اداروں میں موثر آواز بننے کے لئے مشترکہ سفارتی حکمت عملی کی پالیتی مرتب کی جائے۔سب سے بڑھ کر یہ کہ ایران اور سعودی عرب کے بیچ تنائوکو کم کرکے متحدہ اسلامی فورم کی بنیاد رکھنے کا عمل شروع ہو ۔
ر
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: اسرائیل کے ایران کے کہ ایران کے لئے
پڑھیں:
جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
اسلام ٹائمز: اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ تحریر: سید محمد
کسی پرانے جوئے خانے کی ایک کہاوت مشہور ہے "تم اس وقت تک حقیقتاً نہیں پھنستے جب تک تمہیں یہ احساس نہ ہو جائے کہ باہر نکلنے کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔" مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیاسی بساط پر اسرائیل یہی کھیل کھیل رہا ہے۔ ظاہری بیانیے کو ایک طرف رکھیں تو ایک واضح حقیقت سامنے آتی ہے: اسرائیل ایران کی ایٹمی صلاحیت یا میزائل پروگرام سے کم اور امریکی انخلا کے محض امکان سے زیادہ خوفزدہ ہے۔ یہ خوف کوئی معمولی تشویش نہیں بلکہ ایک ایسی وحشت ہے، جو اسرائیلی حکمتِ عملی کے ہر پہلو کو تشکیل دے رہی ہے۔
اسرائیل ہر اس راستے کو سبوتاژ کرتا دکھائی دیتا ہے، جو واشنگٹن کو بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کرسکے۔ یہاں جنگ کا مقصد دشمن کو شکست دینا نہیں بلکہ اتحادی کو اس حد تک اندر کھینچ لینا ہے کہ وہ خود جنگ کا قیدی بن جائے۔ سوال یہ نہیں کہ امریکہ اس تنازعے میں شریک رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس حد تک شریک ہو جائے کہ بعد میں الگ نہ ہوسکے۔ یہ حکمتِ عملی ایک نفسیاتی اور سیاسی جال کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ابتدا ہی سے اسرائیل نے ٹرمپ کو ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کی طرف دھکیلا اور ٹرمپ اپنی طاقت اور امریکی بالادستی کے تصور میں اس قدر گرفتار رہا کہ اسے واپسی کا راستہ دکھائی نہ دیا۔
ایران اور مزاحمتی محاذ کی استقامت نے امریکی عسکری برتری کے اُس طلسم کو چیلنج کر دیا، جسے دہائیوں سے ناقابلِ شکست تصور کیا جاتا تھا۔ اربوں ڈالر کے دفاعی نظام، جدید ٹیکنالوجی اور وسیع عسکری اتحاد بھی خطے میں پیدا ہونے والی نئی بے یقینی کو روک نہ سکے، جبکہ امریکی دفاعی چھتری اور اڈوں کی محدودیت پہلے سے زیادہ نمایاں ہوگئی۔ اسی میدان میں اہداف کا مسلسل سکڑنا بھی صورتِ حال کا مظہر تھا۔ ایران میں رجیم تبدیلی جیسے بڑے ہدف سے شروع ہونے والا معرکہ بلاشرط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے، دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے اور بالآخر آبنائے ہرمز کو کھلوانے جیسے محدود اہداف تک سمٹ آیا، جبکہ امریکی دھمکیاں بھی بتدریج ایرانی سویلین انفراسٹرکچر اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے تک گر آئیں۔
اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ دوسری طرف سفارتی اخراج کا راستہ تھا، مگر یہاں بھی مسئلہ یہ تھا کہ اسرائیل جس صف بندی کو اپنی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے، وہی امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کے لیے معاشی، سیاسی اور سکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتی تھی۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر خلیجی ریاستیں اپنی معیشتوں، توانائی کی تنصیبات اور سرمایہ کاری کے مراکز کے باعث براہِ راست خطرات سے دوچار ہوسکتی تھیں۔ اسی لیے وہ ایسے راستوں کی تلاش میں تھیں، جو ضروری نہیں کہ اسرائیل کے مفادات سے ہم آہنگ ہوں۔ آج اگر امریکہ اپنے مفادات کے لیے واپس چلا جاتا ہے تو اسرائیل تنہا رہ جاتا ہے، لیکن اگر پورا امریکی وقار، افواج اور سیاسی سرمایہ اس جنگ سے جڑ جائے تو واشنگٹن کے لیے اسرائیل سے فاصلہ اختیار کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
روایتی جنگوں کا مقصد دشمن کو شکست دینا ہوتا ہے، لیکن اسرائیل نے جنگ کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے، جس کا نشانہ دشمن نہیں بلکہ اس کا سب سے بڑا اتحادی یعنی امریکہ ہے۔ لبنان کا محاذ بھی اب صرف میدانِ جنگ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ سفارتی عمل کو متاثر کرنے کا ایک مؤثر آلہ بن چکا ہے۔ جب بھی مذاکرات یا کشیدگی میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے، لبنان دوبارہ مرکزِ توجہ بن جاتا ہے۔ اس کے ذریعے کسی بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ یا سست کیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ کسی مفاہمت تک پہنچ جاتا ہے تو یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ خطے کے اہم معاملات اسرائیل کی براہِ راست شمولیت کے بغیر بھی طے ہوسکتے ہیں اور یہی وہ تاثر ہے، جسے اسرائیل ٹوٹنے نہیں دینا چاہتا۔
بعض ریاستوں کے لیے مستقل بحران خود ایک قیمتی سرمایہ بن جاتا ہے۔ جاری کشیدگی اتحادیوں کو متحد اور سکیورٹی خدشات کو زندہ رکھتی ہے۔ اسرائیل کے لیے فوری امن یا جامع سیاسی تصفیہ شاید اتنا مفید نہیں جتنا ایک ایسا کنٹرولڈ بحران جو مسلسل مغربی حمایت اور علاقائی توجہ کو اس کی طرف کھینچے رکھے۔ یہ تمام عوامل امریکہ کو ایک غیر معمولی اسٹریٹجک دباؤ کے دائرے میں دھکیل چکے ہیں۔ ایک طرف ایران کی ایسی مزاحمت ہے، جو کسی حتمی فوجی حل کو ناممکن بناتی ہے، دوسری طرف اسرائیل کی خواہش ہے کہ واشنگٹن مکمل طور پر بحران میں جکڑا رہے، جبکہ تیسری طرف علاقائی اتحادی کشیدگی میں کمی چاہیتے ہیں تاکہ ان کی معیشتیں اور داخلی استحکام محفوظ رہ سکیں۔ نتیجتاً امریکہ ایک ایسی پوزیشن میں کھڑا ہے، جہاں آگے بڑھنا بھی خطرناک ہے، پیچھے ہٹنا بھی مشکل اور جمود بھی اتحادیوں کے اعتماد کو کھوکھلا کر رہا ہے۔
جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ بعض اوقات ان کی سب سے بڑی کامیابی مخالف اتحاد کے اندر موجود تضادات، کمزوریوں اور متصادم مفادات کو بے نقاب کرنے اور اس کے سیاسی، سفارتی اور اسٹریٹجک ڈھانچے میں دراڑیں نمایاں کرنے میں ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حماقت سے نارملائزیشن فریم ورک کو شدید دھچکا پہنچنے کے باوجود، سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکی، مصر اور اردن جیسے ممالک پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اور واضح سیاسی صف بندی کے لیے دباؤ بڑھانا بھی قابلِ توجہ ہے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک سے ایک ایسے بحران میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ عسکری، معاشی اور سیاسی نتائج کا بوجھ بھی انہیں خود اٹھانا پڑ سکتا ہے۔