فرانس: داعش سے تعلق کے شبے میں افغان شہری کو گرفتار کرلیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
فرانس میں 20 سالہ افغان شہری کو دہشتگرد تنظیم داعش سے تعلق کے شبے میں گرفتار کرلیا گیا۔
ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا گیا کہ ملزم پر دہشتگرد تنظیم میں شمولیت اور دہشتگردی کی سرگرمیوں کی مالی معاونت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے طالبان حکومت کے حمایت یافتہ افغان باشندے ملوث ہیں، اقوام متحدہ کی رپورٹ
ملزم کو گزشتہ ہفتے شہر لیون سے گرفتار کیا گیا تھا اور اب اسے تحقیقات مکمل ہونے تک حراست میں رکھا گیا ہے۔
انسدادِ دہشت گردی یونٹ کے مطابق گرفتار نوجوان واضح طور پر جہادی نظریات کا حامی تھا اور اس پر داعش خراسان گروپ سے رابطے کا شبہ ہے۔
پراسیکیوشن کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ وہ اس دہشتگرد تنظیم کے لیے فنڈز بھیجتا رہا اور اس کی پروپیگنڈا مہم کے لیے ترجمہ اور مواد کی ترسیل میں معاونت کرتا رہا۔
داعش خراسان افغانستان میں سرگرم ہے اور پاکستان سمیت وسطی ایشیائی ممالک جیسے ازبکستان میں بھی کام کرتی ہے۔ یہ گروہ افغانستان اور روس میں بڑے مہلک حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے، جن میں مارچ 2024 میں ماسکو کے کنسرٹ ہال پر حملہ بھی شامل ہے جس میں 150 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
فرانسیسی اخبار کے مطابق یہ افغان شہری چند سال قبل فرانس آیا تھا اور اسے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ پہلے ہی لیون میں ایک انتظامی حراستی مرکز میں موجود تھا۔
مزید پڑھیں: مجھے دہشتگردی کے لیے پاکستان بھیجا گیا، افغان دہشتگرد کے اعتراف پر ویڈیو منظر عام پر آگئی
رپورٹ کے مطابق مشتبہ شخص پچھلے کچھ عرصے سے دہشت گردی کی حمایت کے الزام میں زیرِ تفتیش تھا اور ٹک ٹاک اور اسنیپ چیٹ جیسی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر انتہا پسندانہ مواد ایڈیٹ اور شیئر کرتا تھا۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران فرانس بارہا شدت پسند حملوں کا نشانہ بنتا رہا ہے جن میں اکثر حملے القاعدہ اور داعش سے متاثر افراد نے کیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews افغان شہری داعش سے تعلق دہشتگرد گرفتار فرانس وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان شہری دہشتگرد گرفتار وی نیوز افغان شہری کے مطابق تھا اور اور اس کے لیے
پڑھیں:
فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل کے سرغنہ جیفری ایپسٹین کی طرح اس کا مبینہ ساتھی اور فرانسیسی ماڈل اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس میں ماڈل ڈینیئل سیاد کے خلاف جنسی زیادتی، انسانی اسمگلنگ اور خواتین کو دھوکے سے جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں شامل کرنے کے الزامات کی تحقیقات جاری تھیں تاہم ان پر ابھی تک باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔
فرانس میں مردہ پائے گئے ماڈل اسکأٹ ڈینیئل سیاد کی موت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب متعدد خواتین کو جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں پھانسنے اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق سنگین الزامات کی تحقیقات جاری تھیں۔
فرانسیسی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے کولومب میں واقع ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی۔ موت کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ فرانزک ٹیسٹس بھی کرائے جائیں گے تاکہ موت کی وجہ معلوم کی جاسکے۔
ڈینیئل سیاد پر الزام تھا کہ وہ ماڈلنگ کے شعبے سے وابستہ نوجوان خواتین کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کراتا تھا۔
متعدد متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ سیاد نے انہیں ایپسٹین سے ملوایا جس کے بعد وہ مبینہ طور پر جنسی استحصال کا شکار ہوئیں۔
سیاد کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگر پوسٹ مارٹم سے دل کا دورہ موت کی وجہ ثابت ہوتا ہے تو اس میں کئی برسوں سے جاری قانونی دباؤ، ذہنی تناؤ اور غیر یقینی صورتحال کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔
ایپسٹین کیس سے منسلک متعدد خواتین نے ڈینیئل سیاد کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گواہی سے اس پورے نیٹ ورک کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے آ سکتی تھیں۔
سابق فرانسیسی ماڈل جولیٹ نے دعویٰ کیا کہ 2004 میں سیاد نے ان کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سچ تک پہنچنے اور اس نیٹ ورک کے تمام کرداروں کو بے نقاب کرنے کی ایک اہم کڑی ختم ہوگئی۔
اسی طرح سابق سویڈش ماڈل ایبّا کارلسن نے بھی اس امید پر رواں برس فروری میں سیاد کے خلاف شکایت درج کرائی تھی کہ جلد گرفتاریاں ہوں گی اور انصاف ملے گا لیکن ان کی اچانک موت سے یہ امید کمزور پڑگئی ہے۔
خیال رہے کہ ماڈل سیاد کا اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انھیں ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں کا علم نہیں تھا اور خود بھی وہ اس کے دھوکے کا شکار ہوئے۔
ڈینیئل سیاد کے وکیل مینیا عرب ٹیگرین کا کہنا تھا کہ فرانسیسی تفتیش کاروں نے ابھی تک سیاد سے باقاعدہ پوچھ گچھ نہیں کی تھی لیکن وہ اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے تیار تھے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق امریکی عدالت کی جانب سے جاری کی گئی تقریباً دو ہزار سے زائد دستاویزات میں بھی ڈینیئل سیاد کا نام سامنے آیا تھا۔
ان دستاویزات میں مبینہ طور پر بتایا گیا کہ سیاد مختلف ممالک کے دوروں کے دوران خواتین کی تصاویر اور معلومات ایپسٹین کو بھیجتے تھے۔
2014 کی ایک ای میل جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنی تھی اس میں سیاد نے اپنی سرگرمیوں کو ماہی گیری سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ بعض اوقات شکار آسانی سے مل جاتا ہے اور بعض اوقات ایک بھی مچھلی ہاتھ نہیں آتی۔
استغاثہ نے اس زبان کو خواتین کی تلاش سے تعبیر کیا جبکہ سیاد نے اس کی مختلف تشریح پیش کی تھی۔
یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جیفری ایپسٹین سے وابستہ کسی اہم شخصیت کی موت نے سوالات کو جنم دیا ہو وہ خود 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے جہاں وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کر رہے تھے۔
امریکی حکام نے جیفری ایپسٹین کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا تاہم اس پر آج بھی مختلف سوالات اور سازشی نظریات زیرِ بحث رہتے ہیں۔
اسی طرح ایک اور فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ اور ایپسٹین کے قریبی ساتھی ژاں لوک برونیل بھی 2022 میں پیرس کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ حکام نے ان کی موت کو بھی خودکشی قرار دیا تھا۔