Islam Times:
2026-06-03@00:37:10 GMT

ٹرمپ اور "جنگ بندی" کی خبر کے بارے میں 5 اہم نکات

اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT

ٹرمپ اور 'جنگ بندی' کی خبر کے بارے میں 5 اہم نکات

اگر ایران جنگ بندی کو مسترد کرتا ہے تو ٹرمپ امریکہ یا صیہونی حکومت کی جانب سے جاری جارحیت کو جائز قرار دینے کی کوشش کرے گا اور اسے "امن قائم کرنے کے لیے ایران کی عدم خواہش" کے جواب کے طور پر پیش کرے گا۔ ٹرمپ اور "جنگ بندی" کی خبر کے بارے میں 5 اہم نکات

1۔ جارح سے ثالث بننے کی کوشش
حالانکہ صرف 48 گھنٹے قبل، امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تھا، ٹرمپ نے ایران اور صیہونی حکومت کے درمیان جنگ بندی کی بات کی ہے، وہ اس اقدام سے جارح ملک سے ثالث بننے کی کوشش کر رہا ہے، جس کا مقصد امریکہ میں اس پر ہونے والی تنقید کو کم کرنا ہے۔

2۔ حملہ آور کی پوزیشن کو تبدیل کرنا
یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کرکے ٹرمپ تہران کو جنگ شروع کرنے کی پوزیشن میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، قطر میں امریکی اڈے پر ایران کے فوری اور ہدفی ردعمل نے اس منظر کو ہونے سے روک دیا اور زمینی طاقت کے توازن کو بدل دیا۔

3۔ امریکی آپریشن کی کامیابی کو ظاہر کرنے کے لئے 
وہ یہ تجویز کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ امریکی حملے نے ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کر دیا ہے، تاکہ اس کارروائی کو رائے عامہ میں موثر بنا کر پیش کرسکے اور ایران کے ردعمل کو کم اہم قرار دے سکے۔

4۔ آئندہ حملوں کے لیے ماحول تیار کرنا
اگر ایران جنگ بندی کو مسترد کرتا ہے تو ٹرمپ امریکہ یا صیہونی حکومت کی جانب سے جاری جارحیت کو جائز قرار دینے کی کوشش کرے گا اور اسے "امن قائم کرنے کے لیے ایران کی عدم خواہش" کے جواب کے طور پر پیش کرے گا۔

5۔ ایران کے اندرونی ماحول کا اندازہ لگانا
جنگ بندی کا مسئلہ اٹھانے کا ایک پوشیدہ مقصد ایرانی معاشرے کے ردعمل کا اندازہ لگانا ہے۔ امریکی تجزیہ کار میڈیا اور سوشل نیٹ ورکس پر نظر رکھ کر اندرونی ہم آہنگی یا تقسیم کی سطح کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کی بنیاد پر دباؤ کو بڑھانے کی کوشش کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کی کوشش کر کرے گا

پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا