امریکہ امن کا نہیں، جنگ کا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے، ثروت اعجاز قادری
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
ایک بیان میں چیئرمین پی ایس ٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے مگر اپنی خودمختاری اور دفاع کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا، اگر امریکا اور بھارت کے دفاعی معاہدے کے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو یہ کسی بڑی عالمی سازش سے کم نہیں لگتا۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین پاکستان سنی تحریک انجینیئر محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ ایک طرف امریکہ دنیا میں امن کا داعی بنتا ہے، جبکہ دوسری جانب بھارت سے دفاعی معاہدے کر کے خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے، امریکہ کے دوہرے معیار نے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پہلے ہی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے، ایسے میں امریکہ کا اس کے ساتھ دفاعی تعاون کرنا مظلوم کشمیریوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ ثروت اعجاز قادری کا مزید کہنا تھا کہ امتِ مسلمہ کو متحد ہو کر ایسے عالمی رویوں کے خلاف آواز بلند کرنا ہوگی جو ظالم کو طاقت دیتے ہیں اور مظلوم کی داد رسی کے بجائے خاموشی اختیار کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے مگر اپنی خودمختاری اور دفاع کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا، اگر امریکا اور بھارت کے دفاعی معاہدے کے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو یہ کسی بڑی عالمی سازش سے کم نہیں لگتا، ایک طرف امریکا دنیا میں امن کی باتیں کرتا ہے، دوسری جانب بھارت جیسے جارحانہ عزائم رکھنے والے ملک کے ساتھ دفاعی معاہدے کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاہدے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں، پاکستان کے خلاف سازشوں میں ملوث عناصر یہ بھول گئے ہیں کہ پاکستانی قوم اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: دفاعی معاہدے کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔