پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا اور مشال یوسفزئی کے درمیان اختلافات سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا اور پی ٹی آئی کور کمیٹی کی رکن سینیٹر مشال یوسف زئی کے درمیان اختلافات سامنے آگئے۔سلمان اکرم راجا نے ایکس ( سابقہ ٹوئٹر) پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پنجاب میں کسی کو ہٹانے کا نہیں کہا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو مکمل با اختیار بنانے کی بات کی۔سینیٹر مشال یوسف زئی نے رد عمل میں کہا کہ کیا آپ بتانا چاہیں گے کہ سہیل آفریدی کی تعیناتی میں آپ کا کیا عمل دخل تھا،آپ بانی پی ٹی آئی کے بیانیہ کا وزن نہیں اٹھا سکتے تو کسی اور کو موقع دیں۔سلمان اکرم راجا نے پھر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو بانی پی ٹی آئی کے سامنے ہزیمت اٹھانا پڑتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے جب سہیل آفریدی کو وزیر اعلی نامزد کیا تو بعض کو سانپ سونگھ گیا،سیاسی اورکور کمیٹی کی روداد باہر کون بھیج رہا ہے سب جانتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سلمان اکرم راجا بانی پی ٹی کہا کہ
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔