سوشل میڈیا پر انتہا پسندی پھیلانے والے عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جا رہا ہے، سلمان رفیق
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
محکمہ داخلہ پنجاب میں کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کا 40 واں اجلاس چیئرمین و وصوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کی صدارت میں ہوا جس میں صوبائی وزرا چوہدری شافع حسین اور ملک صہیب احمد بھرتھ نے شرکت کی۔
سیکریٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندگان نے اجلاس کو بریفنگ دی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت پنجاب کا شدت پسندی کے خاتمے کے لیے ’انسدادِ شدت پسندی ایکٹ 2025‘ پر پالیسی ڈائیلاگ
اجلاس کے دوران صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال اور غیر قانونی مقیم غیر ملکی باشندوں کے انخلا کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
کابینہ کمیٹی نے پاکستان جنوبی افریقہ کرکٹ سیریز کے سیکیورٹی انتظامات کا بھی جائزہ لیا۔ اور امن عامہ کی فضا کو یقینی بنانے کی ہدایت کی، جبکہ قیام امن کے لیے علما کرام کے اہم کردار پر بھی زور دیا۔
اجلاس سے خطاب میں صوبائی وزیر صحت و چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہے، اس وقت صوبے بھر میں امن و امان کی بہتر صورتحال ہے۔
خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ سوشل میڈیا پر انتہا پسندی کو فروغ دینے والے عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں محکمہ داخلہ پنجاب کا خصوصی سیل 24 گھنٹے ایکٹو ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں غیر قانونی مقیم غیر ملکی باشندوں کو باعزت طریقے واپس بھجوانے کا عمل کامیابی سے جاری ہے۔
صوبائی وزیر انڈسٹریز چوہدری شافع حسین نے کہا کہ اتحاد بین المسلمین کے لیے علما کرام کا کردار انتہائی اہم ہے۔
صوبائی وزیر کمیونیکیشن اینڈ ورکس ملک صہیب احمد برتھ نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب کی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے قیام امن کی خاطر دن رات مصروف عمل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں غیر قانونی اسلحہ، انتہا پسندی اور ڈالا کلچر کے خلاف سخت کارروائی جاری ہے، عظمیٰ بخاری
کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کے 40 ویں اجلاس میں سیکریٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی، سیکریٹری اطلاعات و ثقافت سید طاہر رضا ہمدانی، اسپیشل سیکریٹری داخلہ فضل الرحمان، ایڈیشنل آئی جی پولیس چوہدری سلطان، سپیشل برانچ اور سی ٹی ڈی سے ڈی آئی جیز، ایڈیشنل سیکریٹری انٹرنل سیکیورٹی احسان علی جمالی، ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ عاصمہ اعجاز چیمہ، ایڈیشنل سیکرٹری جوڈیشل عمران حسین رانجھا نے شرکت کی۔
اس کے علاوہ پنجاب بھر سے کمشنرز اور آر پی اوز نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی اور امن وامان کی صورتحال بارے بریفنگ دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امن و امان انتہا پسندی پنجاب سلمان رفیق سوشل میڈیا وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انتہا پسندی سلمان رفیق سوشل میڈیا وی نیوز سیکریٹری داخلہ کابینہ کمیٹی داخلہ پنجاب انتہا پسندی سلمان رفیق کے لیے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔