وزیراعظم آزاد کشمیر کا آج مستعفیٰ ہونے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
وزیراعظم آزاد کشمیر کا آج مستعفیٰ ہونے کا امکان WhatsAppFacebookTwitter 0 27 October, 2025 سب نیوز
مظفر آباد(آئی پی ایس) وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کے آج عہدے سے مستعفیٰ ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم چوہدری انوار اپنا استعفیٰ آج صدرِ آزاد کشمیر کو بھجوا سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی آج کی پریس کانفرنس بھی منسوخ ہونے کا امکان ہے۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی پہلے ہی منگل کے روز وزیراعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جمع کرانے کا اعلان کر چکی ہے۔
ادھر آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت سازی کے حوالے سے مشاورت حتمی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ حکومتی وفد آج شام اسلام آباد میں پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات کرے گا۔
ذرائع کے مطابق وفد میں احسن اقبال، امیر مقام اور رانا ثناءاللہ شامل ہوں گے، جو آزاد کشمیر کی نئی حکومتی تشکیل پر تبادلہ خیال کریں گے۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے کا دعویٰ کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو مزید چار ارکانِ اسمبلی کی حمایت حاصل ہوگئی ہے، جس کے بعد پارٹی کی کل تعداد بڑھ کر 27 ہوگئی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد آزاد کشمیر میں نئی حکومت کی راہ ہموار ہوچکی ہے اور حتمی فیصلہ آج یا کل متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی انچارج برائے آزاد کشمیر امور فریال تالپور نے اسلام آباد میں مختلف اہم ملاقاتیں کیں جن میں ماجد خان، عاصم بٹ، اکبر ابراہیم اور فہیم ربانی شامل تھے۔ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی ہے۔
فریال تالپور کی جانب سے سندھ ہاؤس اسلام آباد میں ایک اہم عشائیے کا اہتمام کیا گیا جس میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی، مہاجرین نشستوں کے ارکان اور بیرسٹر سلطان گروپ کے نمائندے شریک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق بیرسٹر سلطان گروپ کے پانچ ارکان اور مہاجرین نشستوں کے پانچ ارکان نے بھی پیپلز پارٹی کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جبکہ دو ارکان کی حمایت کو فی الحال خفیہ رکھا گیا ہے۔
اسی دوران آزاد کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ تعلیم ملک ظفر اقبال نے بھی فریال تالپور سے ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ انہوں نے حکومت سازی میں مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ رات صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیراعظم چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی منظوری دی تھی۔
عشائیے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری یاسین نے کہا کہ وزیراعظم انوارالحق نے خود کہا تھا کہ اگر 27 ارکان سامنے آگئے تو وہ استعفا دے دیں گے، اب اخلاقی طور پر انہیں اپنے وعدے کے مطابق مستعفی ہوجانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم نے دو دن کے اندر استعفا نہ دیا تو پیپلز پارٹی تحریکِ عدم اعتماد جمع کرائے گی۔
سردار تنویر الیاس نے دعویٰ کیا کہ ”27 کا گولڈن نمبر پورا ہوچکا ہے، ہمارے پاس ویڈیوز اور تصاویر بطور ثبوت موجود ہیں۔“
ان کا مزید کہنا تھا کہ ”فارورڈ بلاک کے تمام ارکان دراصل پیپلز پارٹی کے ہی کارکن ہیں اور نئے قائدِ ایوان کا فیصلہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کریں گے۔“
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی قیادت آج اپنے پاور شو کے ذریعے آزاد کشمیر میں اپنی عددی برتری کو ثابت کرے گی، جس کے بعد وزیراعظم چوہدری انوارالحق کا مستقبل اگلے 48 گھنٹوں میں واضح ہونے کا امکان ہے۔
چوہدری یاسین نے مزید کہا کہ ”یومِ سیاہ کے موقع پر وزیراعظم کا مستعفی ہونا کشمیری عوام کے لیے ایک مثبت پیغام ہوگا۔“
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان کا بھارت سے ملنے والی فضائی حدود 2 روز کیلئے بند کرنے کا فیصلہ پاکستان کا بھارت سے ملنے والی فضائی حدود 2 روز کیلئے بند کرنے کا فیصلہ الیکشن کمیشن نے نگران حکومت کی مدت میں توسیع سے متعلق آئین میں ترمیم کی سفارش کر دی وزیر اعظم شہباز شریف فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹیو میں شرکت کیلیے سعودی عرب روانہ پاک افغان مذاکرات کا تیسرا دور: طالبان کے مسودے میں شامل دو بنیادی مطالبات کیا ہیں؟ چیف جسٹس کا ایک سالہ دور، قانونی ماہرین کا کارکردگی پر عدم اعتماد آوارہ کتوں کے خاتمے اور نسل کشی کیخلاف کیس: سی ڈی اے، میونسپل کارپوریشن نے رپورٹ عدالت میں جمع کرادیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی ہونے کا امکان پارٹی کے کے بعد
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔