پینٹاگون کے اعلان کے مطابق امریکا اور فلپائن نے تعاون کے فروغ اور خاص طور پر جنوبی بحیرہ چین جیسے علاقوں میں، فوجی تیاریوں کو بڑھانے کے لیے ایک نئی مشترکہ ٹاسک فورس تشکیل دی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے  کی رپورٹ کے مطابق یہ اعلان پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگسیتھ اور فلپائن کے وزیرِ دفاع گیلبرٹو ٹیودورو کے درمیان ملاقات کے بعد کیا گیا، جو ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں آسیان وزرائے دفاع کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔

پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل کے بیان کے مطابق،’ ٹاسک فورس-فلپائنز’ سے عملی تعاون میں اضافہ، مشترکہ منصوبہ بندی میں بہتری، اور دفاعی ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے گا، خاص طور پر جنوبی بحیرہ چین میں۔

پیٹ ہیگسیتھ نے جمعے کو اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات میں واشنگٹن کے علاقائی اتحادیوں اور شراکت داروں کے خلاف چین کے اقدامات پر تشویش ظاہر کی — جس کا اشارہ بظاہر جنوبی بحیرہ چین میں فلپائن کے ساتھ بار بار ہونے والی جھڑپوں اور آسٹریلیا کے ساتھ نگرانی کی پروازوں پر بڑھتی کشیدگی کی جانب تھا۔

پیٹ ہیگسیتھ نے مزید کہا کہ امریکا کو جنوبی بحیرہ چین کے متنازع علاقوں اور تائیوان کے اردگرد چین کی سرگرمیوں پر بھی تشویش ہے۔

پینٹاگون کے مطابق، امریکا اور فلپائن کے وزرائے دفاع نے اپنی چوتھی ملاقات میں ’ علاقے میں دفاعی توازن کو دوبارہ قائم کرنے کے عزم’ کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ امریکا اور فلپائن کے درمیان ایک باہمی دفاعی معاہدہ بھی موجود ہے۔

بیان کے مطابق دونوں ممالک نے دفاعی شراکت داری کو جدید بنانے اور اگلے دو سالوں میں بڑے ترجیحی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کے منصوبے کی تکمیل کا بھی اعلان کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل جنوبی بحیرہ چین پینٹاگون کے اور فلپائن فلپائن کے کے مطابق

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی