قابض مئیر اور سندھ حکومت کو کراچی کے مسائل سے کوئی سرکار نہیں ،منعم ظفر خان
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے امیر ضلع گلبرگ وسطی کامران سراج اور ٹاؤن چیئرمین نصرت اللہ کے ہمراہ ٹی ایم سی گلبرگ کے تحت حسین آبادیوسی 7، فیڈرل بی ایریا بلاک 3 میں’’ خاتون ِ جنت پارک‘‘ کا افتتاح کردیا، پارک کے افتتاح پر علاقہ مکینوں نے جماعت اسلامی کے بلدیاتی نمائندوں کی کوششوں کو سراہا اور اظہار تشکر کیا ، خاتون جنت پارک میں گھاس، پودے اور اس کی دیواریں ازسر نو بنائی گئیں ہیں ۔ اس موقع پر خاتون جنت پارک کی جماعت اسلامی کی کوششوں سے تعمیر ِ نو سے قبل اسکرین پر دکھایا گیا جبکہ اب پارک منفرد منظر پیش کررہا ہے۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں اور علاقہ مکینوں سے خطاب کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ یہ پارک بھی عوام کے لیے جماعت اسلامی کا تحفہ ہے ، قابض
میئر اور17 سال سے صوبے پر براجماں پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کو کراچی کے عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔ اگر پیپلزپارٹی کو مسائل کے حل سے دلچسپی ہوتی تو کراچی کے ساڑھے3 کروڑ عوام کو بجلی ،پانی،صحت ، تعلیم اور ٹرانسپورٹ سمیت دیگر سہولیات اور ضروریات میسر ہوتیں۔ پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت نے کراچی کے سارے اداروں اور وسائل پر قبضہ کیا ہواہے اور سوائے پیسہ بنانے کے کوئی کام نہیں ہورہا۔ امسال کراچی کے عوام نے 3 ہزار ارب روپے ٹیکس ادا کیا لیکن آدھا کراچی پانی سے محروم ہے ، کے فور منصوبے کو 40 ارب روپے کی ضرورت تھی لیکن وفاقی بجٹ میں صرف 3.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی بھی عوام کے کراچی کے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔