سپریم کونسل کے ملتان میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اہلسنت کے رہنمائوں کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کی نگرانی میں عدالتی کمیشن قائم کیا جائے جو اس سانحہ کے محرکات کا جائزہ لے اور اس سانحہ میں شہدا کی تعداد کا تعین کرے، شہدا کے ورثا کو ریاست دیت ادا کرے اور اس سانحہ کے زخمیوں کا سرکاری خرچ پر علاج کرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہل سنت پاکستان کی مجلس شوری، سپریم کونسل اور ملک بھر سے جماعت کے صوبائی ڈویژنل اور ضلعی امرا اور ناظمین نے سپریم کونسل کے چیئرمین سابق وفاقی وزیر مذہبی امور پیر امین الحسنات شاہ، مرکزی امیر علامہ سید مظہر سعید کاظمی اور ناظم اعلی صاحبزادہ پیر خالد سلطان القادری پر مکمل اعتماد کا اظہار کردیا، سپریم کونسل کے چیئرمین پیر امین الحسنات شاہ کی ہدایت پر سپریم کونسل کے رکن علامہ سیدحامد سعید کاظمی سابق وفاقی وزیر مذہبی امور نے مرکزی امیر اور ناظم اعلی سے ان کے عہدوں کا حلف لیا۔ اس موقع پر سپریم کونسل کے ممبر اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر وسیم ممتاز ایڈووکیٹ کی پیش کردہ دو قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں، پہلی قرارداد میں سانحہ مرید کے میں پولیس کے بہیمانہ تشدد اور اس کے نتیجے میں بے گناہوں کی شہادتوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ اس جانکاہ حادثہ کے ذمہ داران کے تعین کیلئے ہائی کورٹ کی نگرانی میں عدالتی کمیشن قائم کیا جائے، جو اس سانحہ کے محرکات کا جائزہ لے اور اس سانحہ میں شہدا کی تعداد کا تعین کرے قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ شہدا کے ورثا کو ریاست دیت ادا کرے اور اس سانحہ کے زخمیوں کا سرکاری خرچ پر علاج کرایا جائے۔

 دوسری قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ سیاسی جماعت کے خلاف انتقامی کاروائی کی آڑ میں جماعت اہل سنت کے مدارس، مساجد اور خانقاہوں میں ہمہ قسم مداخلت بند کی جائے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ اہل سنت کے مدارس اور خانقاہیں ہمیشہ رشدوہدایت کے مراکز اور امن وآشتی کے پیغامبر رہے ہیں، ان مراکز کے خلاف بے جا کاروائی پر اہل سنت گہری تشویش کا شکار ہیں، یہ کاروائیاں اہل سنت کے خلاف گہری سازش ہیں۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ ان عناصر کو بے نقاب کیا جائے جو اس قسم کے اقدامات کے ذریعے ملکی امن وامان کو تہ و بالا کرنے کے درپے ہیں اور ان ذمہ داران کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے ہم سالمیت پاکستان، استحکام وطن اور قیام امن کیلئے اپنی افواج کے شانہ بشانہ ہیں۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مطالبہ کیا گیا کہ سپریم کونسل کے اور اس سانحہ اس سانحہ کے جماعت اہل اہل سنت کے خلاف سنت کے

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں