data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: حکومت سندھ نے کراچی میں ٹریفک ریگولیشن اینڈ سائٹیشن سسٹم (ٹریکس) کو ایک جدید اور مصنوعی ذہانت  پر مبنی پروجیکٹ کے طور پر نافذ کیا ہے۔

ابتدائی طور پر اس نئے نظام کے  تحت فی الحال شہر کے اہم مقامات بشمول شاہراہ فیصل، تین تلوار، ٹاور اور لیاری ایکسپریس وے پر 200 سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں، جو  سگنل توڑنے، تیز رفتاری، سیٹ بیلٹ نہ باندھنے  اور ہیلمٹ نہ پہننے جیسی خلاف ورزیوں کا خودکار اندراج کر رہے ہیں۔

حکومت کا منصوبہ ہے کہ پہلے مرحلے کی کامیابی کے بعد آئندہ مرحلے میں کیمروں کی تعداد کو بڑھا کر 12 ہزار تک لے جایا جائے گا اور پھر اس نظام کو سندھ کے دیگر اضلاع تک بھی وسیع کیا جائے گا۔

ای چالان کے عمل کو آسان اور شفاف بنانے کے لیے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، ڈرائیونگ لائسنس سسٹم اور نادرا ای سہولت جیسے اہم ڈیٹا بیسز کے ساتھ ٹریکس کا انضمام کر دیا گیا ہے۔ شہری ٹریکس موبائل ایپ اور دیگر آن لائن گیٹ ویز کے ذریعے اپنے چالان دیکھ اور ادا کر سکتے ہیں۔

اسی طرح وزیر اعلیٰ سندھ نے یہ سہولت بھی دی ہے کہ پہلی بار خلاف ورزی کرنے والے ذاتی طور پر پیش ہو کر معافی نامہ جمع کرائیں تو ان کا جرمانہ معاف ہو سکتا ہے۔ شکایت کے ازالے کے لیے بڑے ٹریفک دفاتر میں ٹریکس سہولت مراکز قائم کیے گئے ہیں اور سی پی ایل سی کے ساتھ بھی اس نظام کو منسلک کیا گیا ہے تاکہ شفاف نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری

فوٹو: فائل

کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی نے مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔  

اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔ 

 اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

 اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ 

صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی