حق سچ کی آواز اٹھانے والے صحافیوں پر ظلم و تشدد بند ہونا چاہیے، مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
وزیر اعلیٰ پنجاب کا صحافیوں کیخلاف جرائم کے خاتمے کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ دن منانے کا مقصد حق اور سچ کی پاداش میں قتل ہونے یا تکلیفیں سہنے والے صحافیوں کو یاد کرنا ہے، پنجاب میں صحافی اور صحافت محفوظ ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہاں ان کے قتل و تشدد کے واقعات نہ ہوئے نہ ہی ہوں گے،بے گھر صحافیوں کیلئے اپنی چھت کا خواب پورا کرنے کیلئے پُرعزم ہیں، حق اور سچ کی راہ پر چلنے والے صحافیوں کیساتھ ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صحافیوں کیخلاف جرائم کے خاتمے کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ حق سچ کی آواز اٹھانے والے صحافیوں پر ظلم و تشدد بند ہونا چاہیے، احساس ذمہ داری کیساتھ آزادی صحافت جمہوریت کی اساس ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ مضبوط جمہوری معاشرے کیلئے صحافت کا آزاد ہونا بہت ضروری ہے، صحافی معاشرتی انصاف کے محافظ اور عوام کی آواز ہیں، ظلم، ناانصافی اور جھوٹ کو بے نقاب کرنیوالے صحافی ہیرو ہیں۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ بحیثیت وزیر اعلیٰ آزادی صحافت کے تحفظ کی ضامن ہوں، صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے حکومت متعدد اقدامات کر رہی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ بے گھر صحافیوں کیلئے اپنی چھت کا خواب پورا کرنے کیلئے پُرعزم ہیں، حق اور سچ کی راہ پر چلنے والے صحافیوں کیساتھ ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ کریں گے۔ مریم نواز کا کہنا ہے کہ دن منانے کا مقصد حق اور سچ کی پاداش میں قتل ہونے یا تکلیفیں سہنے والے صحافیوں کو یاد کرنا ہے، پنجاب میں صحافی اور صحافت محفوظ ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہاں ان کے قتل و تشدد کے واقعات نہ ہوئے نہ ہی ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: والے صحافیوں حق اور سچ کی مریم نواز
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔