علی امین گنڈا پور کی بانی سے ملاقات کی درخواست، جسٹس منصور کی کیس سننے سے معذرت WhatsAppFacebookTwitter 0 25 June, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز)وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے سپریم کورٹ میں پیش ہو کر بانی تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کی اجازت کی درخواست کر دی تاہم جسٹس منصور علی شاہ نے کیس سننے سے معذرت کر لی۔
تفصیلات کے مطابق آج صبح وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور جسٹس منصور علی شاہ کی عدالت میں اس وقت پیش ہوگئے جب وہاں کسی دوسرے کیس کی سماعت ہو رہی تھی، وزیراعلی کے ہمراہ ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ اور ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل بھی تھے۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے روسٹرم پر آ کر موقف اختیار کیا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں اس وقت بجٹ منظوری کا عمل جاری ہے اور ہماری بجٹ کمیٹی کو پارٹی سربراہ سے ملاقات کی فوری ضرورت ہے تاکہ اہم فیصلے کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہماری بارہا درخواستوں کے باوجود عمران خان سے ملاقات نہیں کرائی جا رہی، عمران خان نے اس سلسلے میں سپریم کورٹ کو باقاعدہ خط لکھا تھا جس پر چیف جسٹس نے اچھے ریمارکس دیئے تھے مگر تاحال کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔
اس موقع پر جسٹس منصور علی شاہ نے معاملہ سننے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ یہ جوڈیشل سائیڈ کا معاملہ نہیں، آپ نے غلط دروازہ کھٹکھٹایا ہے، بہتر یہ ہے کہ آپ رجسٹرار سپریم کورٹ یا چیف جسٹس یحیی آفریدی سے رجوع کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ چیف جسٹس یحیی آفریدی پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں، وہ ہی آپ کے لیے مناسب فورم ہے اور اس سے آپ کا وقت بھی بچے گا۔
اس موقع پر ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے عدالت سے استدعا کی کہ یہ ایک ارجنٹ معاملہ ہے، ہماری گزارش ہے کہ اسے فوری سنا جائے، ہم عدالت کی آشیرباد چاہتے ہیں تاکہ چیف جسٹس کو یہ معاملہ بھجوا سکیں۔تاہم جسٹس منصور علی شاہ نے واضح کیا کہ ہم اس حوالے سے عدالتی کارروائی نہیں کر سکتے، بہتر ہے کہ یہ درخواست براہ راست چیف جسٹس یا رجسٹرار کے روبرو پیش کی جائے۔
ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور اس کے بعد رجسٹرار آفس گئے تو پتہ چلے کہ رجسٹرار بیرون ملک ہیں جس کے بعد وہ ایڈیشنل رجسٹرار آفس پہنچ گئے جنہوں نے ان کی درخواست وصول کر کے کہا کہ وہ فائل پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے چیئرمین چیف جسٹس کے سامنے رکھیں گے۔
بعدازاں وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے پچھلے کئی دنوں سے کوشش کر رہے تھے، ہمارے خلاف یہ ایک سازش ہو رہی ہے، بانی کی ہدایت تھی کہ ہم سپریم کورٹ آئیں اور انہیں کی ہدایت پر آج سپریم کورٹ آیا ہوں۔
علی امین گنڈا پور کے مطابق کمرہ عدالت میں جسٹس منصور علی شاہ موجود تھے جنہوں نے انہیں بولنے کا موقع دیا، بانی کے خط کے حوالے سے جسٹس منصور علی شاہ کو آگاہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا اور 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ کو ہتھکڑیاں لگا دی گئی ہیں، بطور پاکستانی ہم نے ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ بحیثیت وزیر اعلی جب سپریم کورٹ آیا تو یہی سوچا تھا کہ چیف جسٹس سے ڈسکس کروں گا، انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہماری درخواست جلد سماعت کے لیے مقرر ہو گی۔
علی امین گنڈا پور نے بجٹ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ پر بانی پی ٹی آئی کا وژن سب کو معلوم ہے اور جتنے بجٹ پیش ہوئے ہیں ان سب میں سب سے بہترین بجٹ ہمارا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان اور یو اے ای کے درمیان سرکاری و سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم ، معاہدے پر دستخط پاکستان اور یو اے ای کے درمیان سرکاری و سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم ، معاہدے پر دستخط پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات کامیاب؛آئندہ ہفتے معاہدے کی تکمیل پر اتفاق اسرائیلی ماڈل اپنانے کی تیاری؟ پاکستان کیخلاف بھارتی عزائم بے نقاب حالیہ بارشوں کے بعد ڈیموں میں پانی کے ذخیرے میں اضافہ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر نے پارٹی کے فیصلوں سے خود کو الگ کر لیا کراچی سے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے 4 ایجنٹ گرفتار TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: جسٹس منصور علی شاہ علی امین گنڈا پور خیبر پختونخوا سے ملاقات کی سپریم کورٹ کی درخواست کہا ہے کہ انہوں نے چیف جسٹس کے بعد کے لیے

پڑھیں:

اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف

اسلام آباد ہائی کورٹ نے این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے درخواست گزار افسران کے سرکاری فرائض میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ڈالنے سے روک دیا۔

عدالت نے این سی سی آئی اے ملازمین کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے روکنے کا حکمِ امتناع بھی برقرار رکھا۔

جسٹس محمد اعظم خان نے متاثرہ افسران کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی اور این سی سی آئی اے حکام کو چار روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت تک جواب جمع نہ کرایا گیا تو عدالت رِٹ پٹیشن پر فیصلہ کرنے کے ساتھ توہینِ عدالت کی کارروائی بھی شروع کر سکتی ہے۔

دورانِ سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ اتنے پڑھے لکھے اور تجربہ کار افراد کو کام سے روکنا زیادتی ہے۔ درخواست گزاروں کی جانب سے صدر سپریم کورٹ بار ہارون رشید اور منظور احمد ججہ ایڈووکیٹ پیش ہوئے، جبکہ عدالت نے کیس کی سماعت 30 جولائی تک ملتوی کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس