ہاکی کھیل کی بحالی کیلے جاری حکومتی کوششوں کو دھچکا
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (اسپورٹس ڈیسک )قومی کھیل ہاکی کی بحالی کیلے جاری حکومتی کوششوں کو دھچکا، پاکستان سپورٹس بورڈ نے ہاکی کلبوں کو سہولیات دینے کی بجائے پیسے بنانا شروع کر دیے، وفاقی وزیربین الصوبائی رابطہ رانا ثنا اللہ اور وفاقی سیکرٹری محی الدین وانی سے ہاکی کلبوں نے نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان سپورٹس بورڈنے اسلام آباد کے رجسٹرڈہاکی کلبوں کیلئے نصیر بندہ ہاکی اسٹیڈیم کے چارجز میں تقریبا تین سو فیصد اضافہ کرتے ہوئے پندرہ سو روپے سے بڑھا کر 5700روپے ایک دن کا کردیا ہے ،جس پر اسلام آباد ہاکی ایسوسی ایشن سے رجسٹرڈ ہاکی کلبوں نے وفاقی وزیر اور پاکستان سپورٹس بورڈ کے صدر رانا ثنا اللہ اور وفاقی سیکریٹری وزارت بین الصوبائی رابطہ محی الدین وانی کو خط لکھتے ہوئے اپیل کی ہے کہ وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے قومی کھیل ہاکی کے فروغ اور بحالی کے لیے بھرپور عزم کا اظہار کررکھا ہے لیکن ہاکی گرائونڈ کے چارجز میں اضافہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے مالی بوجھ بن چکا ہے لہذا نصیر بندہ ہاکی گرائونڈ کے چارجز میں اضافی فوری طور پر واپس لیا جائے۔ خط میں مزید کہا گیا کہ رازنگ اسٹار سمیت دیگر ہاکی کلبز کئی سالوں سے سکولز اور کالجز کے بچوں کو مفت تربیتی سیشنز فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ مثبت اور صحت مند سرگرمیوں میں حصہ لیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہاکی کلبوں
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت