اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ ن یوتھ ونگ نے سمیع اللہ خان برکی کو خیبر پختونخوا کا نیا صوبائی آرگنائزر مقرر کر دیا۔ان کی تقرری کا باقاعدہ نوٹیفکیشن مسلم لیگ ن یوتھ ونگ کے سیکریٹری جنرل عقیل نجم ہاشمی کی جانب سے جاری کیا گیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق، سمیع اللہ برکی کو صوبے کے مختلف ڈویڑنز اور شہروں میں یوتھ ونگ کے تنظیمی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ان کی بنیادی ذمہ داریوں میں خالی تنظیمی عہدوں کو پْر کرنا، نوجوان کارکنان کو متحرک کرنا اور آئندہ سیاسی سرگرمیوں سے قبل یوتھ ونگ کو فعال بنانا شامل ہے۔نوٹیفکیشن میں سمیع اللہ برکی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس پورے تنظیمی عمل کے دوران مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کے صدر اور وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام سے مکمل رابطہ اور ہم آہنگی برقرار رکھیں۔یہ اقدام مسلم لیگ ن کی جانب سے خیبر پختونخوا میں بالخصوص نوجوانوں کے درمیان اپنی سیاسی موجودگی کو ازسرنو فعال بنانے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔ قیادت کو امید ہے کہ یوتھ ونگ میں نئی توانائی اور تنظیم نو سے پارٹی کی نچلی سطح پر جڑیں مضبوط ہوں گی اور سیاسی عمل میں نوجوانوں کی شمولیت میں اضافہ ہوگا۔صدر مسلم لیگ ن ٹانک سمیع اللہ برکی کو پارٹی حلقوں میں ایک وفادار اور متحرک شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے، اور ان کی تقرری کو مقامی کارکنان کی جانب سے خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔

Post Views: 10.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔

نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔

اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا