ریحام خان کی سارہ خان کے اینٹی فیمینزم مؤقف پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
ریحام خان نے اداکارہ سارہ خان کے اینٹی فیمینزم مؤقف پر ردعمل دیا ہے جو سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
ریحام خان نے اداکارہ سارہ خان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ سارہ شاید بھول رہی ہیں کہ وہ آج فیمینزم کی وجہ سے ہی وہ بطور اداکارہ کام کر رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں اداکارائیں اس ہی وجہ سے آزادی سے کام کر سکتی ہیں کیونکہ فیمینسٹ ہی خواتین کے حقوق کیلئے آواز اُٹھاتے ہیں اور اپنی مرضی سے زندگی جینے کی آزادی کیلئے جدوجہد کرتے ہیں۔
ریحام خان نے کہا کہ اگر کوئی فیمینزم سے اتفاق رائے نہ بھی رکھتا ہو تو اسے اس کیخلاف بیان نہیں دینا چاہیئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ افلوئنس رکھنے والے لوگوں کو ایسے افراد کیلئے بات کرنی چایئے جنہیں یہ سہولیات میسر نہیں ہیں۔
یاد رہے کہ کچھ دن قبل اداکارہ سارہ خان نے ایک ایونٹ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے فیمینزم پر اپنی رائے کا اظہار کیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ وہ اتنی فیمینسٹ نہیں ہیں اور مردوں کے کام انہیں پر چھوڑ کر خود گھر میں سکون سے رہنا زیادہ صحیح سمجھتی ہیں۔
سارہ کا یہ بیان سوشل میڈیا پر بھی خوب وائرل ہوا تھا جس کے کئی دنوں تک چرچے بھی ہوتے رہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔