ٹرمپ انتظامیہ کا دباؤ، صدر یونیورسٹی آف ورجینیا بھی مستعفی
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
ٹرمپ انتظامیہ کا دباؤ، صدر یونیورسٹی آف ورجینیا بھی مستعفی WhatsAppFacebookTwitter 0 28 June, 2025 سب نیوز
واشنگٹن (شاہ خالد )امریکا کی وفاقی حکومت (ٹرمپ انتظامیہ) کے دباؤ کے باعث یونیورسٹی آف ورجینیا کے صدر جیمز رائن کو عہدے سے استعفیٰ دینا پڑگیا۔
رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف ورجینیا کے صدر جیمز رائن نے یونیورسٹی آف ورجینیا کی کمیونٹی کے نام پیغام میں لکھا کہ وہ انتہائی بوجھل دل کے ساتھ آگاہ کر رہے ہیں کہ انہوں نے بطور یونیورسٹی صدر استعفیٰ دیدیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ وہ جس بات پر یقین رکھتے ہیں اس کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
گزستہ 7 سال سے جیمز رائن یونویرسٹی کے صدر تھے، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تنوع، مساوات اور شمولیت سے متعلق پالیسی کی مخالفت کے سبب انہیں شدید دباؤ کا سامنا تھا اور محکمہ انصاف نے رائن کوخط بھیج کر معاملے پر وضاحت طلب کی تھی۔
رائن سے پہلے کولمبیا یونیورسٹی کے عبوری صدر کو بھی عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا، رائن کا کہنا تھا کہ انہوں نے استعفیٰ وفاقی فنڈنگ جاری رہنے، سیکڑوں ملازمتیں برقرار رہنے اور سیکڑوں طلبہ کو اقتصادی مدد اور ویزا اسٹیٹس جاری رہنے کی خاطر دیا۔
رائن یونیورسٹی کے لیے اربوں ڈالر فنڈ جمع کرنے کی وجہ سے بھی شہرت کے حامل تھے۔ عہدہ چھوڑنے سے صرف ایک روز پہلے انہوں نے 50 ملین ڈالر کے عطیات جمع کیے تھے۔ رائن اس سے پہلے ہارورڈ یونیورسٹی میں گریجویٹ اسکول آف ایجوکیشن کے ڈین تھے۔
رائن کو دباؤ کا شکار کرنے پر سیکڑوں طلبہ نے ٹرمپ انتظامیہ کیخلاف جمعہ کو مظاہرہ بھی کیا۔
رائن کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی مشکل فیصلہ تھا اور اس طرح یونیورسٹی چھوڑنے سے ان کا دل ٹوٹ گیا ہے۔ اگر معاملہ ان سے اس حد تک ذاتی طور پر جڑا نہ ہوتا تو ممکن ہے وہ کوئی دوسرا رستہ اپناتے مگر اپنا عہدہ بچانے کی کوشش میں وہ شعوری طور پر اپنے ساتھیوں اور طلبہ کو نقصان پہنچتا نہیں دیکھ سکتے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکا میں پیدا بچوں کی شہریت سے متعلق سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ امریکا میں پیدا بچوں کی شہریت سے متعلق سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ ابو کے پاس بھاگنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، ایران کا اسرائیل پر طنزیہ وار ’غزہ میں جنگ بندی آئندہ ہفتے ممکن ہے‘؛ ٹرمپ کا دعویٰ غزہ میں اسرائیلی دہشت گردی جاری، مزید 72فلسطینی شہید چین نے بھارت کو خصوصی کھاد کی ترسیل بند کر دی، زراعت مفلوج ہونے کا خدشہ رونالڈو کا النصر سے مہنگا ترین معاہدہ، یومیہ کتنی تنخواہ و مراعات لیں گے؟،تفصیلات سب نیوز پرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: یونیورسٹی ا ف ورجینیا ٹرمپ انتظامیہ
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔