اسلاموفوبیا، دہلی یونیورسٹی کے آن لائن داخلہ فارم میں اردو کا لفظ مسلم سے تبدیل
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
لاہور:
بھارت میں ہندوتوا انتہا پسند حکومت کی زیرسرپرستی مسلمان اور پاکستان دشمنی کا ایک اور واقعہ سامنے آگیا۔
دہلی یونیورسٹی مشہور ترین بھارتی یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے جہاں ایک لاکھ سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ یونیورسٹی نے حال ہی میں گریجوایشن داخلوں کا آغاز کیا تو آن لائن فارم میں ’’ماں بولی‘‘کے تحت خانے میں اردو غائب کر کے ’’مسلم ‘‘لفظ شامل کر دیا۔
اس شرانگیزی پر باضمیر بھارتی دانشوروں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار اردو کو صرف مسلمانوں کی زبان قرار دے کر بھارت سے نابود کرنا چاہتی ہے حالانکہ کروڑوں غیرمسلم بھی اسے بولتے اور لکھتے ہیں۔اردو نے ہندوستان میں جنم لیا اور یہ ہماری عظیم تہذیب وتمدن کی روشن نشانی ہے۔
شدید احتجاج پر یونیورسٹی انتظامیہ نے ماں بولی کے خانے سے ’’مسلم ‘‘لفظ ہٹا کر اسے ’’کلرک کی غلطی‘‘ قرار دے ڈالا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
(سٹی42)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مستونگ میں بھارتی سپانسرڈدہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیاہے۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے 4 دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرکے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا،دہشت گردی کے خلاف پورا ملک اپنی بہادر سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑا ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
وزیرداخلہ محسن نقوی نے مزیدکہاکہ سکیورٹی فورسزبلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف بھرپور اور مؤثر کارروائیاں کر رہی ہیں ،فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کا ناپاک گٹھ جوڑ وطن عزیز کا امن تباہ نہیں کر سکتا۔