نئی دہلی میں فضائی آلودگی کیخلاف احتجاج پر درجنوں افراد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
نئی دہلی (نیوزڈیسک)بھارتی دارالحکومت میں فضائی آلودگی کے خلاف احتجاج پر درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی پولیس نے نئی دہلی میں واقع مشہور انڈیا گیٹ یادگار پر احتجاج کے دوران درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا۔ مظاہرین دارالحکومت اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو ہر سال لپیٹ میں لینے والی زہریلی ہوا پر قابو پانے کے لیے کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
اتوار کے روز ہونے والا یہ احتجاج، جس میں ہر عمر کے لوگ بینرز اٹھائے ہوئے اور نعرے لگاتے ہوئے شریک تھے، ایک غیر معمولی واقعہ تھا، حالانکہ دہلی اور نیشنل کیپیٹل ریجن ہر سال سردیوں میں ایسی آلودگی سے نبرد آزما رہتے ہیں۔
مظاہرین میں شامل ایک نقاب پوش خاتون نیہا نے، کہا: ”ہمیں صرف ایک ہی مسئلہ ہے، اور وہ ہے صاف ہوا کا۔“
انہوں نے خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا ”یہ مسئلہ کئی سالوں سے جاری ہے، لیکن کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔“ ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ پولیس مظاہرین کو گھسیٹ کر لے جا رہی تھی۔ کچھ لوگ ایسے بینرز اٹھائے ہوئے تھے جن پر لکھا تھا: ”سانس لینا ہمیں مار رہا ہے،“ جبکہ دیگر نعرے لگا رہے تھے: ”ہمارا حق، صاف ہوا!“
پیر کے روز نئی دہلی کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 345 ریکارڈ کیا گیا، جو ”انتہائی ناقص“ کے زمرے میں آتا ہے۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے مطابق، 0 سے 50 کے درمیان درجہ ”اچھا“ تصور کیا جاتا ہے جبکہ 401 سے 500 کے درمیان ”انتہائی خطرناک“ قرار دیا جاتا ہے۔
پولیس نے صحافیوں کو بتایا کہ احتجاج کا مقام منظور شدہ مظاہرے کے مقامات میں شامل نہیں تھا، اس لیے وہاں سے جگہ خالی کرانے کو کہا گیا۔ دوسری جانب، اپوزیشن رہنماؤں نے مظاہرین کو ہٹانے کے اقدام پر تنقید کی۔
کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر لکھا: ”صاف ہوا کا حق ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ پرامن احتجاج کا حق ہمارے آئین میں شامل ہے۔ تو پھر شہریوں کو، جو صرف صاف ہوا کا مطالبہ کر رہے ہیں، مجرموں کی طرح کیوں برتا جا رہا ہے؟“
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نئی دہلی صاف ہوا ا لودگی
پڑھیں:
رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
رحیم یارخان میں لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد کر لی گئی، ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 19 جولائی کو نوجوان کو طلب کیا تھا جس کے بعد نوجوان لاپتا ہو گيا تھا۔
ڈی پی او عرفان سموں کے مطابق مقتول نوجوان کے بھائی کی مدعیت میں ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مدعی کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 4 روز قبل بھائی کو طلب کیا اور تشدد کرکے قتل کردیا۔
پولیس نے تفتیش کے بعد گرفتار ملزم ایس ایچ او کی نشان دہی پر مقتول نوجوان کی لاش تھانہ صدر صادق آباد علاقہ رانجھی خان میں گنے کی فصل سے برآمد کر لی۔