خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کا کردار قابلِ ستائش ہے، ایرانی سفیر
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
اسپیکر قومی اسمبلی نے ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان نے بھارتی جارحیت کا مؤثر اور منہ توڑ جواب دیا ہے، پاکستان اور بھارت جنگ میں بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ واضح ہو گیا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مغدام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے مشکل وقت میں ساتھ دے کر ثابت کیا کہ وہ ایران کا سچا دوست ہے، خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کا کردار قابلِ ستائش ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ایرانی سفیر رضا امیری مغدام نے ملاقات کی، ملاقات میں دو طرفہ تعلقات سمیت اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ اور وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی بھی شریک تھے۔ ایاز صادق نے کہا کہ اسرائیل کا ایران پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے، ایران اور اسرائیل کے مابین جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں، دنیا کو اس وقت جنگوں کی نہیں، امن کی ضرورت ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں ہمیشہ امن کو فروغ دینے کے لیے کردار ادا کیا ہے، پاکستان نے بھارتی جارحیت کا مؤثر اور منہ توڑ جواب دیا ہے، پاکستان اور بھارت جنگ میں بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ واضح ہو گیا۔ ایاز صادق نے کہا کہ اسرائیلی اقدام علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان نے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔