خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کا کردار قابلِ ستائش ہے، ایرانی سفیر
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
اسپیکر قومی اسمبلی نے ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان نے بھارتی جارحیت کا مؤثر اور منہ توڑ جواب دیا ہے، پاکستان اور بھارت جنگ میں بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ واضح ہو گیا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مغدام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے مشکل وقت میں ساتھ دے کر ثابت کیا کہ وہ ایران کا سچا دوست ہے، خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کا کردار قابلِ ستائش ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ایرانی سفیر رضا امیری مغدام نے ملاقات کی، ملاقات میں دو طرفہ تعلقات سمیت اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ اور وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی بھی شریک تھے۔ ایاز صادق نے کہا کہ اسرائیل کا ایران پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے، ایران اور اسرائیل کے مابین جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں، دنیا کو اس وقت جنگوں کی نہیں، امن کی ضرورت ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں ہمیشہ امن کو فروغ دینے کے لیے کردار ادا کیا ہے، پاکستان نے بھارتی جارحیت کا مؤثر اور منہ توڑ جواب دیا ہے، پاکستان اور بھارت جنگ میں بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ واضح ہو گیا۔ ایاز صادق نے کہا کہ اسرائیلی اقدام علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان نے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔