طبعی موت، حادثہ، خودکشی یا قتل؟ حمیرا اصغر کی موت کا پتا چلانے کیلئے تحقیقاتی ٹیم تشکیل
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
کراچی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جولائی 2025ء ) معروف ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کی موت کا پتا چلانے کیلئے تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی گئی۔ تفصیلات کے مطابق صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے علاقے ڈیفنس میں واقع ایک فلیٹ سے ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش ملنے کے بعد پولیس نے واقعے کی نوعیت جاننے کے لیے تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے، سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ساؤتھ (ایس ایس پی) مہزور علی نے اداکارہ کی موت کی نوعیت جاننے کے لیے ایس پی کلفٹن عمران علی جاکھرانی کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی۔
بتایا گیا ہے کہ اس حوالے سے تشکیل دی جانے والی تحقیقاتی ٹیم میں ایس ڈی پی او ڈیفنس اورنگزیب خٹک، اے ایس پی ندا جنید اور ایس ایچ او گزری فاروق سنجرانی کو شامل کیا گیا ہے، سب انسپکٹر محمد امجد اور آئی ٹی برانچ کے پولیس کانسٹیبل محمد عدیل بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔(جاری ہے)
اس حوالے سے پولیس حکام نے بتایا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم کو روزانہ کی بنیاد پر اعلیٰ حکام کو پیش رفت سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، تحقیقاتی ٹیم واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی، جن میں طبعی موت، حادثہ، خودکشی یا قتل سمیت تمام امکانات شامل ہیں، جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے کے علاوہ فلیٹ میں موجود اشیاء، سی سی ٹی وی فوٹیج اور اداکارہ کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے تحقیقاتی ٹیم
پڑھیں:
تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔