کیکو شاردا نے دی کپل شرما شو چھوڑنے کی خبروں کی تردید کردی
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
بھارتی میڈیا میں یہ خبریں چل رہی تھیں کہ کامیڈین کیکو شاردا، جو دی کپل شرما شو کے مقبول رکن ہیں، اب شو کو چھوڑنے والے ہیں اور ایمازون پر نشر ہونے والے ایک نئے کامیڈی شو میں نظر آئیں گے۔
لیکن اب کیکو شاردا نے ان خبروں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کہیں نہیں جا رہے اور ہمیشہ کپل شرما شو کا حصہ رہیں گے۔
یہ افواہیں اس وقت شدت اختیار کر گئیں جب کیکو اور کرشنا ابھیشیک کی ایک مبینہ لڑائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اس ویڈیو پر وضاحت دیتے ہوئے کیکو نے انسٹاگرام پر کرشنا کے ساتھ ایک بلیک اینڈ وائٹ تصویر شیئر کی اور لکھا:
یہ بندھن کبھی نہیں ٹوٹے گا، وہ جھگڑا صرف ایک پرینک تھا۔”
View this post on Instagram
A post shared by Kiku Sharda (@kikusharda)
مداحوں نے اس وضاحت پر اطمینان کا اظہار کیا اور خوشی ظاہر کی کہ کیکو ابھی بھی دی کپل شرما شو کا حصہ ہیں۔
یاد رہے، اس سے پہلے کرشنا ابھیشیک، سنیل گروور اور سمنونا چکرورتی بھی مختلف اوقات میں شو چھوڑ چکے ہیں، لیکن مداحوں کے اصرار پر کرشنا اور سنیل گروور دوبارہ ٹیم میں شامل ہوگئے تھے۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کپل شرما شو
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔