کیکو شاردا نے دی کپل شرما شو چھوڑنے کی خبروں کی تردید کردی
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
بھارتی میڈیا میں یہ خبریں چل رہی تھیں کہ کامیڈین کیکو شاردا، جو دی کپل شرما شو کے مقبول رکن ہیں، اب شو کو چھوڑنے والے ہیں اور ایمازون پر نشر ہونے والے ایک نئے کامیڈی شو میں نظر آئیں گے۔
لیکن اب کیکو شاردا نے ان خبروں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کہیں نہیں جا رہے اور ہمیشہ کپل شرما شو کا حصہ رہیں گے۔
یہ افواہیں اس وقت شدت اختیار کر گئیں جب کیکو اور کرشنا ابھیشیک کی ایک مبینہ لڑائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اس ویڈیو پر وضاحت دیتے ہوئے کیکو نے انسٹاگرام پر کرشنا کے ساتھ ایک بلیک اینڈ وائٹ تصویر شیئر کی اور لکھا:
یہ بندھن کبھی نہیں ٹوٹے گا، وہ جھگڑا صرف ایک پرینک تھا۔”
View this post on Instagram
A post shared by Kiku Sharda (@kikusharda)
مداحوں نے اس وضاحت پر اطمینان کا اظہار کیا اور خوشی ظاہر کی کہ کیکو ابھی بھی دی کپل شرما شو کا حصہ ہیں۔
یاد رہے، اس سے پہلے کرشنا ابھیشیک، سنیل گروور اور سمنونا چکرورتی بھی مختلف اوقات میں شو چھوڑ چکے ہیں، لیکن مداحوں کے اصرار پر کرشنا اور سنیل گروور دوبارہ ٹیم میں شامل ہوگئے تھے۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کپل شرما شو
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔
اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔
ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔
وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔
We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.
Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔