سوشل میڈیا پر حال ہی میں وائرل ہونے والی ایک ویڈیو نے صارفین کو شدید حیرت اور غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے، ویڈیو میں دو بیٹیوں کو اپنے والد کے آخری لمحات کے دوران وی لاگ بناتے اور غیر سنجیدہ رویہ اختیار کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ جب ایک بزرگ شخص موت کے قریب تھا اُس وقت اُس کی بیٹیاں نہ صرف کیمرے کے سامنے موجود تھیں بلکہ اپنے یوٹیوب چینل کو لائک اور سبسکرائب کرنے کی اپیل بھی کر رہی تھیں۔

سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد عوامی حلقوں میں سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ صارفین نے اس عمل کو ’غیر اخلاقی‘، ’غیر انسانی‘ اور ’سوشل میڈیا کی دوڑ میں اقدار کی پامالی‘ قرار دیا ہے۔ متعدد صارفین کا کہنا تھا کہ انسانی جذبات، خاندانی رشتے اور دکھ جیسے نازک لمحات کا اس طرح استحصال افسوسناک ہے۔

اطہر سلیم نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ بے حسی کی انتہا دیکھ کر دل دہل گیا، یہ سوشل میڈیا کی ہوس اور ڈالرز کی لالچ ہے کہ بیٹیوں نے باپ کی موت کا وی لاگ بنا ڈالا۔

بیٹیوں نے باپ کی موت کا وی لاگ بنا ڈالا!!سوشل میڈیا کی ہوس،ڈالرز کی لالچ،،، انسانیت بیچ ڈالی!بے حسی کی انتہا۔۔۔ دیکھ کر دل دہل گیا! pic.

twitter.com/Pq3EWTwOKb

— Ather Salem® (@Atharsaleem01) September 14, 2025

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکن اسمبلی حنا پرویز بٹ نے کہا کہ دن بدن معاشرہ بگڑتا جا رہا ہے، وہ وہ چیزیں سوشل میڈیا پر لائی جا رہی ہیں جس کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا، نئے اور کم پڑھے لکھے یوٹیوبرز نئی نسل کو تباہ کر رہے ہیں، لوگوں کو ترغیب دے رہے ہیں کہ بغیر محنت کیے، الٹی سیدھی باتیں کر کے، اسے وی لاگ کا نام دے کر آپ لاکھوں کما سکتے ہیں۔

دن بدن معاشرہ بگڑتا جا رہا ہے، وہ وہ چیزیں سوشل میڈیا پر لائی جا رہی ہیں جس کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا، نئے اور کم پڑھے لکھے یوٹیوبرز نئی نسل کو تباہ کر رہے ہیں، لوگوں کو ترغیب دے رہے ہیں کہ بغیر محنت کئے، الٹی سیدھی باتیں کر کے، اسے وی لاگ کا نام دیکر آپ لاکھوں کما سکتے ہیں،… https://t.co/4jJAoxhfF3

— Hina Parvez Butt (@hinaparvezbutt) September 14, 2025

ایک ایکس صارف نے لکھا کہ اپنے باپ کی آخری ساعتوں کو لائکس اور ویوز کے لیے نمائش بنانا انسانیت کی اعلیٰ عظمت پر ایک خراش ہے، انہوں نے مزید لکھا کہ غم میں بھی وقار کا حق ہوتا ہے۔

اپنے باپ کی آخری ساعتوں کو لائکس اور ویوز کے لیے نمائش بنانا انسانیت کی اعلیٰ عظمت پر ایک خراش ہے — غم میں بھی وقار کا حق ہوتا ہے۔ https://t.co/b8yiWTKBLM

— Hyper|RogueX ™ (@SidzahlatTalha) September 14, 2025

علی عمران عباسی نے کہا کہ سوشل میڈیا کی شہرت اور ڈالرز کی دوڑ میں انسانیت روند ڈالی، یہ سوشل میڈیا کی اندھی ہوس اور بے حسی کی وہ انتہا ہے جس نے دل دہلا دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک ویڈیو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اگر ہم نے حدود مقرر نہ کیں تو کل ہر غم، ہر دکھ، ہر جنازہ بھی ’کانٹینٹ‘ بن جائے گا۔

باپ کی موت پر وی لاگ؟ سوشل میڈیا کی شہرت اور ڈالرز کی دوڑ میں انسانیت روند ڈالی
باپ کے انتقال جیسے دردناک موقع کو بھی "کانٹینٹ" میں بدل دینا یہ ہے سوشل میڈیا کی اندھی ہوس اور بے حسی کی وہ انتہا، جس نے دل دہلا دیا۔

کیا کچھ لمحے ایسے نہیں جنہیں صرف خاموشی، دعا اور آنسوؤں کے ساتھ… pic.twitter.com/vcJIsWI7dH

— Ali Imran Abbasi (@aliimranabbasi) September 14, 2025

ارم عامر نے یوٹیوبرز پر سخت تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ان کو بلاک کر دیا جائے۔

خدا را ان کو بلاک کر دیا جائے

— Iram Amir (@IramAmir77) September 15, 2025

جہاں کئی صارفین ان کے وی لاگ پر تنقید کرتے اور یوٹیوبر پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرتے نظر آئے وہیں چند صارفین کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے غربت کی وجہ سے ایسا کیا۔

ایک ایکس صارف نے کہا کہ پہلے غربت کو الزام دو، پھر انہیں۔ بے شک انہوں نے غلط کام کیا ہے، لیکن ایسا لگتا ہے وہ بہت ہی بری زندگی گزار رہے ہیں۔

First blame poverty then them. Off course they did wrong thing but seems like they are living a very very bad life.

— John R Elia (@Shah4Resistance) September 14, 2025

ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ غریبی انسان سے کیا کچھ نہیں کراتی۔

Ghareebi insaan se kiya kiya nhi krwati! Allah mari ess behen ko rizq e halal den! Ameen

— xyz (@GoharZaman_) September 14, 2025

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آخری لمحات موت کا وی لاگ ویڈیو وائرل

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا خری لمحات ویڈیو وائرل سوشل میڈیا کی سوشل میڈیا پر اور ڈالرز کی نے باپ کی بے حسی کی نے کہا کہ کا وی لاگ انہوں نے ہوس اور لکھا کہ رہے ہیں

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی