میچ ہارگئے توکیا ہوا جنگ توہم جیتے، بھارت سے میچ پر پاکستانی شائقین کے سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ 2025 کے چھٹے میچ میں بھارت کے ہاتھوں پاکستان کی 7 وکٹوں سے شکست کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین سرگرم ہوگئے۔
ایکس صارف زین ہنی نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے فینز کو حوصلہ دیتے ہوئے لکھا کہ ”ہمارا قومی کھیل ویسے بھی تو رفال گرانا ہے۔“
Match jeeten ya haren, jang to hum he jeetay thy ????
.
.
.
.
.#meme #post #Tweet
— Ruthless tweets ???? (@ruthless_umair) September 14, 2025
روایتی حریف کے ہاتھوں شکست کے بعد بھی پاکستانی شائقین مایوس نہ ہوئے اور سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے کیے اور بھارتیوں کو رواں سال مئی کے مہینے میں پاک فوج کے ہاتھوں عبرتناک شکست اور 0-6 یاد دلادی.
ایک صارف نے ایکس پر پوسٹ میں لکھا کہ ”میچ جیتے یا ہاریں، جنگ تو ہم جیتے ہیں۔“
ایک اور صارف نے لکھا کہ “ آپ لوگوں کو ایک بار پھر سے بتادوں کہ اصل جنگ تو ہم ہی جیتے ہیں،
Ap logon ko ek bar phir se bata du k asal jang to hum he jeetay the
— Marium (@_miumm) September 14, 2025
ایک اور صارف نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ ’میچ ہار گئے تو کیا ہوا جنگ تو ہم جیتے ہیں نا۔“
مظہر ارشد نے لکھا کہ ’صاحبزادہ فرحان وہ پہلے پاکستانی بیٹر ہیں جنہوں نے جسپریت بمراہ کو انٹرنیشنل کرکٹ میں چھکا مارا ہے۔ یہ 400 گیندوں کے بعد ہوا ہے۔‘
Sahibzada Farhan is the first ever Pakistan batter to hit Jasprit Bumrah for a SIX in international cricket. It has happened after 400 balls!
— Mazher Arshad (@MazherArshad) September 14, 2025
میاں عمر نے بابر اعظم کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ”بابر اعظم کے بغیر ٹیم کی پرفارمنس۔“
Team performance without Babar Azam ????#PakVsInd #PakvIND pic.twitter.com/H2YCQqFZAl
— Adv. Mian Omer???????? (@Iam_Mian) September 14, 2025
Post Views: 4
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔