خواتین ورلڈکپ فائنل میں تاخیر، بھارتی میڈیا نے انتظامیہ پر تنقید کے تیر برسا دیے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈکپ 2025 کے فائنل میچ کے آغاز میں بارش کے باعث تاخیر پر بھارتی میڈیا نے کرکٹ انتظامیہ کو skنیت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
میچ کے دوران گراونڈ پر بارش کے باعث کورز بچھا دیے گئے تھے اور ٹاس تقریباً تیس منٹ کی تاخیر سے ہوا۔ تاہم، بھارتی ذرائع ابلاغ نے اس تاخیر کو محض موسمی نہیں بلکہ انتظامی کمزوری قرار دیا۔
بھارتی اخبارات اور نیوز چینلز نے رپورٹس میں کہا کہ “شائقین بڑی تعداد میں میدان میں موجود تھے، مگر بروقت اپ ڈیٹس اور انتظامی رابطے کی کمی نے ان کے جوش کو ماند کر دیا۔” ایک معروف ٹی وی چینل نے اس صورتحال کو “مینجمنٹ فیل” قرار دیا۔
سوشل میڈیا پر بھی شائقین نے بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) کو skنیت تنقید کا نشانہ بنایا اور مطالبہ کیا کہ آئندہ ایسے عالمی مقابلوں میں بہتر منصوبہ بندی کی جائے تاکہ خواتین کرکٹ کے فروغ کو نقصان نہ پہنچے۔
دوسری جانب، ماہرینِ کرکٹ کا کہنا ہے کہ اگرچہ تاخیر کی بنیادی وجہ موسم تھا، تاہم انتظامیہ کو ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متبادل حکمتِ عملی پہلے سے تیار رکھنی چاہیے تھی۔
میچ بعد ازاں شروع ہوا اور بھارتی ٹیم کو اپنی کارکردگی کے ذریعے فائنل میں موجودگی کا جواز ثابت کرنے کا موقع ملا، مگر میڈیا کے مطابق “شاندار موقع انتظامی کمزوریوں کے باعث مدھم پڑ گیا۔”
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔