راولپنڈی میں ڈینگی حملوں میں دوبارہ شدت لوٹ آئی
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
راولپنڈی میں ایک دن کے وقفے سے ڈینگی مچھروں کے حملوں میں پھر شدت آگئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ضلع بھر میں چوبیس گھنٹوں میں ڈینگی کے مزید 32 کیس رپورٹ ہوئے۔ پیر کے روز چوبیس گھنٹوں میں صرف 10 نئے ڈینگی کیس تھے جو آج 32 ہو گئے ہیں۔
ڈینگی مچھروں کے حملوں نے صورتحال تشویش ناک کردی ہے۔ راولپنڈی میں ڈینگی کیسز میں مجموعی طور پر 1,764 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔
ڈینگی کے باعث 35 مریض مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج جبکہ رواں سال اب تک 19 ہزار 504 افراد کے ڈینگی ٹیسٹ کیے گئے۔ ڈینگی کنٹرول ٹیموں کی کارروائیاں تیز ہوئی ہیں جس میں 13 سو 59 ٹیمیں متحرک ہیں۔
60 لاکھ 45 ہزار سے زائد گھروں کی چیکنگ مکمل کی گئی جس میں 1 لاکھ 71 ہزار 838 مقامات پر سرویلنس، 76 ہزار 598 مقامات پر لاروا برآمد ہوا۔
مجموعی طور پر 2 لاکھ 19 ہزار 777 لاروا تلف کیے گئے اور ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 4 ہزار 662 ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ 1 ہزار 856 عمارتیں سیل کر دی گئیں جبکہ 3 ہزار 620 چالان، لاکھوں روپے جرمانے عائد کیے جاچکے ہیں۔
اسی طرح اسلام آباد میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں ڈینگی کے 30 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ نئے کیسز میں 18 دیہی اور 12 شہری علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس وقت مختلف اسپتالوں میں 62 مریض زیرِ علاج ہیں۔ بارہ کہو میں سب سے زیادہ 4 مریض رپورٹ ہوئے۔ ٹیموں نے 41 ہزار 776 مقامات کا معائنہ کیا اور 4 کمرشل سائٹس اور 278 گھروں میں مثبت لاروا کی نشاندہی کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں ڈینگی
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔