فرانسیسی خاتون اول سے متعلق دعویٰ امریکی پوڈکاسٹر کو مہنگا پڑگیا، صدر نے مقدمہ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
واشنگٹن:
فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون اور ان کی اہلیہ خاتون اول بریگٹ نے امریکی عدالت میں دائیں باز کے انفلوئنسر اور پوڈ کاسٹر کینڈیس اوئنز کے خلاف مقدمہ درج کردیا ہے جبکہ پوڈکاسٹر نے دعویٰ کیا تھا کہ فرانسیسی خاتون اول مرد کے طور پر پیدا ہوئی تھیں اور دراصل وہ مرد ہیں۔
غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق فرانس کے صدر میکرون اور ان کی اہلیہ نے ڈیلاویئر سپیریئر کورٹ میں دائر درخواست میں کہا ہے کہ اوئنز نے اپنے پوڈ کاسٹ کو مشہور کرنے اور شائقین کی تعداد میں اضافے کے لیے مہم کے ذریعے ان کی عالمی سطح پر بے عزتی کی ہے۔
میکرون نے کہا ہے کہ 72 سالہ بریگٹ میکرون کے بارے میں یہ جھوٹ بولا گیا کہ ان کا نام پیدائش کے وقت جین مائیکل ٹرونگنیوکس رکھا گیا تھا جو کہ حقیقت میں ان کےبڑے بھائی کا نام ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ اوئنز نے ان کی شکل و شبہاہت، شادی، ان کے دوستوں، ان کے خاندان اور ذاتی تاریخ کے حوالے سے بات چیت کی اور اس کو اشتعال دلانے اور بدنام کرنے کے لیے مضحکہ خیز بیانیے میں تبدیل کرنے کے لیے توڑ مروڑ کر بیان کیا۔
عدالت سے کہا گیا ہے کہ مضحکہ خیز بیانیے کے نتیجے میں دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر بدنامی ہورہی ہے۔
دوسری جانب پوڈکاسٹر اوئنز کے ایک ترجمان نے ردعمل دیتےہوئے بیان میں کہا کہ یہ مقدمہ ہی ان کو دھماکنے کی ایک کوشش ہے کیونکہ بریگٹ میکرون نے اوئنز کی جانب سے بارہا انٹرویو کے لیے کی گئی درخواست کو مسترد کردیا تھا۔
ترجمان نے بتایا کہ کینڈیس اوئنز خاموش نہیں ہوں گی، یہ ایک غیرملکی حکومت ایک امریکی آزاد صحافی کے فرسٹ ایمنڈمنٹ رائٹ پر حملہ کر رہی ہے۔
فرانسیسی صدر میکرون اور ان کی اہلیہ کے وکلا نے بیان میں کہا کہ اوئنز کی جانب سے توہین آمیز بیانات واپس لینے کے لیے ان کے تین مطالبات مسترد کیے جانے کے بعد مقدمہ دائر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اوئنز کی توہین آمیز مہم منصوبہ بندی کے تحت انہیں ہراساں کرنے، ہمیں اور ہمارے خاندان کی توہین کی نیت سے کی گئی تھی حالانکہ ہم نے انہیں ان دعوؤں سے پیچھے ہٹنے کے لیے انہیں کئی مواقع فراہم کیے لیکن انہوں نے انکار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہ اوئنز میں کہا کے لیے
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔