Islam Times:
2026-07-24@14:50:02 GMT

غزہ کی آڑ میں مغربی کنارہ نگلنے کی اسرائیلی پیش قدمی

اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT

غزہ کی آڑ میں مغربی کنارہ نگلنے کی اسرائیلی پیش قدمی

اسلام ٹائمز: اگر آج غزہ جل رہا ہے، تو ریاض، ابوظہبی، قاہرہ، عمان اور رباط قطر کیریو دمشق میں قہقہے کیوں گونج رہے ہیں؟ غزہ کے بچے روٹی مانگتے ہیں، دوائی مانگتے ہیں، پناہ مانگتے ہیں، اور عرب بادشاہ اسرائیل سے دفاعی ڈرون اور نائٹ ویژن کیمرے خرید رہے ہیں اور اس ظالمانہ منظرنامے میں اگر کوئی ایک ملک ہے جو اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف اپنی پالیسی، زبان، ہتھیار اور نظریہ واضح رکھے ہوئے ہے تو وہ ایران ہے۔ ایران کی قیادت وہ واحد آواز ہے جو بغیر کسی خوف کے کھلے عام کہتی ہے کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے، اور فلسطین فلسطینیوں کا ہے۔ تحریر: عرض محمد سنجرانی

غزہ پر جاری ظلم و بربریت نے عالمی ضمیر کو اس قدر مفلوج کر دیا ہے کہ اسرائیل نے مغربی کنارے کو بھی خاموشی سے نگلنے کا عمل تیز کر دیا ہے۔ غزہ کا سانحہ جہاں پوری انسانی آبادی کو خوراک، پانی اور دوا سے محروم نسل کشی کی نہج پر لے آیا، وہیں مغربی کنارہ اسرائیلی نقشے میں تقریباً مکمل طور پر ضم ہو چکا ہے۔ اب صرف باضابطہ اعلان کی دیر ہے۔ اس مظلوم قوم کی آہوں، لاشوں، زخمی بچوں، ماؤں کی سسکیوں، اور بے گھر خاندانوں کے سامنے پوری انسانیت کا سر شرم سے جھک جانا چاہیئے تھا، مگر اسرائیل نے اس انسانی المیے کو ایک موقع میں بدل دیا۔ اُس نے غزہ کی تباہی کو پردہ بنا کر مغربی کنارے پر قبضے کا حتمی منصوبہ بھی آگے بڑھا دیا، اور دنیا نے ایک بار پھر صرف خاموشی کی زبان بولی۔

اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے ایک علامتی قرارداد کے ذریعے مغربی کنارے کو اسرائیلی ریاست میں ضم کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ اکہتر کے مقابلے میں تیرہ ووٹوں سے منظور شدہ اس قرارداد کے پیچھے وہی پرانی صیہونی ذہنیت، ریاستی طاقت، مذہبی شدت پسندی اور نیتن یاہو کا فسطائی ایجنڈا کارفرما ہے، وہی ایجنڈا جو اسرائیل کو نیل سے فرات تک پھیلانے کا خواب دیکھتا ہے۔ اس قرارداد میں فلسطینیوں کو کسی ریاست، شناخت یا حقِ خود ارادیت کی کوئی گنجائش نہیں دی گئی۔ بلکہ یہ ایک اعلان ہے کہ اب فلسطینیوں کی زمین، تاریخ، تشخص، اور وجود، سب کچھ باقاعدہ طور پر صیہونی ریاست کے پیروں تلے روند دیا جائے گا۔

مگر اصل المیہ صرف اسرائیلی جارحیت نہیں، اصل المیہ وہ زخم ہے جو امت مسلمہ کے خنجر سے فلسطین کے جسم پر لگ رہا ہے۔ عرب حکمران، جن کے پاس تیل کی دولت ہے، افواج ہیں، اور دنیا کے بڑے دارالحکومتوں میں سفارت خانے ہیں۔ وہ سب خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ کچھ تو اس خاموشی سے بھی آگے بڑھ چکے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ دوستانہ معاہدے، تجارتی روابط، دفاعی تعاون، اور مشترکہ منصوبوں پر دستخط کر کے گویا فلسطینیوں کے قتل پر اپنی مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے۔ کیا یہی وہ امت ہے جسے رسولِ اکرم (ص) نے ایک جسم قرار دیا تھا؟ کیا ایک حصے کے زخم پر دوسرا حصہ بے حس ہو سکتا ہے؟

اگر آج غزہ جل رہا ہے، تو ریاض، ابوظہبی، قاہرہ، عمان اور رباط قطر کیریو دمشق میں قہقہے کیوں گونج رہے ہیں؟ غزہ کے بچے روٹی مانگتے ہیں، دوائی مانگتے ہیں، پناہ مانگتے ہیں، اور عرب بادشاہ اسرائیل سے دفاعی ڈرون اور نائٹ ویژن کیمرے خرید رہے ہیں اور اس ظالمانہ منظرنامے میں اگر کوئی ایک ملک ہے جو اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف اپنی پالیسی، زبان، ہتھیار اور نظریہ واضح رکھے ہوئے ہے تو وہ ایران ہے۔ ایران کی قیادت وہ واحد آواز ہے جو بغیر کسی خوف کے کھلے عام کہتی ہے کہ ’’اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے، اور فلسطین فلسطینیوں کا ہے۔‘‘

ایران نے صرف بیانات ہی نہیں دیے، بلکہ مسلسل عسکری، مالی، اور نظریاتی مدد فراہم کی ہے۔ چاہے وہ حماس ہو، انصاراللہ ہو اسلامی جہاد، یا حزب اللہ۔ ایران نے اسرائیلی بمباری کے جواب میں کبھی ’’تشویش‘‘ پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ مزاحمتی اتحاد کی عملی حکمت عملی تشکیل دی۔ ایران پر عالمی پابندیاں لگیں، اقتصادی جنگ مسلط ہوئی، سفارتی تنہائی پیدا کی گئی، مگر اس کے مؤقف میں ذرہ برابر بھی لرزش نہ آئی۔ ایران کی اسی مزاحمت نے مغرب کے خیمے میں تھرتھلی مچا رکھی ہے۔ اسرائیل کی ہر سازش کے پیچھے یہ خطرہ موجود ہے کہ کہیں ایران سے نیا جواب نہ آ جائے۔

یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کی حالیہ قرارداد میں "ایرانی شیطانی تکون" کو مرکزی خطرہ قرار دیا گیا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر عرب حکمران صرف "تشویش" کے سفیر ہیں، تو ایران اس وقت واحد ریاست ہے جو میدانِ عمل میں اسرائیل کے سامراجی منصوبے کے خلاف کھڑی ہے۔ کیا یہ شرم کی بات نہیں کہ جن کے سینوں میں رسول (ص) کا عشق ہے، وہ آج اسرائیل کے ساتھ افطار کی میز پر بیٹھتے ہیں، اور جن پر صدیوں سے کفر کا فتویٰ چسپاں ہے، وہ قبلۂ اول کی حرمت کے لیے فرنٹ لائن پر ہیں؟ تاریخ نے اُمت کو ایک آئینہ دکھا دیا ہے — اب یہ ہمارے ضمیر کا امتحان ہے کہ ہم کس طرف کھڑے ہوتے ہیں۔

کیا کوئی ایک عرب ملک ایسا ہے جو اسرائیل کو سفارتی، تجارتی یا عسکری زبان میں روک سکے؟ قطر اور ترکی کی چند علامتی کوششوں کے سوا پورے عرب ورلڈ پر موت طاری ہے۔ وہ اقوامِ متحدہ کی بے اثر قراردادوں، او آئی سی کے بے جان اجلاسوں، اور میڈیا کے خالی بیانات سے زیادہ کچھ نہیں کر رہے۔ جبکہ اسرائیل زمین ہڑپ کر رہا ہے، بستیاں بسا رہا ہے، مسجد اقصیٰ کی حرمت پامال کر رہا ہے اور دنیا کی سب سے منظم نسل کشی کر رہا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ فیصلہ کرے گی کہ فلسطین کو اسرائیل نے قتل نہیں کیا بلکہ مسلم حکمرانوں کی خاموشی، بے حسی، اور منافقت نے فلسطین کو دفن کر دیا۔ آج جو یروشلم کے منبر خاموش ہیں، کل ان پر صیہونی جھنڈا لہرائے گا، آج جو غزہ کی بستیوں پر بم برس رہے ہیں، کل وہ مکہ و مدینہ کے افق پر بھی چھا سکتے ہیں، اگر یہی خاموشی برقرار رہی۔

یہ سب کچھ ہوتے ہوئے اسرائیلی نصاب میں بچوں کو پڑھایا جا رہا ہے ’’خدا نے نیل سے فرات تک کی زمین بنی اسرائیل کو ہمیشہ کے لیے عطا کی ہے۔‘‘ یہ تعلیم ایک نسل کو صرف صیہونی نہیں، سامراجی، قاتل اور استعماری سوچ کا وارث بنا رہی ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ اسرائیل کیا کرے گا، سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں گے؟ کیا ہم ماتم کرتے رہیں گے؟ کیا ہم صرف سوشل میڈیا پر احتجاج کرتے رہیں گے؟ کیا ہم حکمرانوں سے رحم کی بھیک مانگتے رہیں گے؟ نہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ امت مسلمہ کا ہر فرد اپنے حصے کی مشعل جلائے۔ بائیکاٹ سے، قلم سے، احتجاج سے، دعا سے، اور اگر ممکن ہو تو میدانِ عمل سے۔ کیونکہ اگر آج ہم نے آواز نہ اٹھائی تو کل تاریخ ہمیں بھی ظالموں کے ساتھ لکھے گی۔ خدا کے حضور، تاریخ کے صفحات پر، اور مظلوم فلسطینیوں کی آنکھوں میں اب صرف ایک ہی سوال ہے۔
"جب مسجد اقصیٰ جل رہی تھی، تم کہاں تھے؟"

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مانگتے ہیں کہ اسرائیل جو اسرائیل رہے ہیں رہا ہے دیا ہے

پڑھیں:

ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ

تہران / واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے عراق کے ذریعے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک بنیادی تنازعات، خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے، کا حل پیش نہ کیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی حالیہ دورۂ واشنگٹن کے بعد تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق پیغام پہنچایا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی تجویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مختصر یا عارضی جنگ بندی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور دیگر اہم معاملات پر کوئی واضح پیش رفت شامل نہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے کہا کہ عراقی وزیراعظم نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں اور اپنے مشاہدات سے ایران کو آگاہ کیا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان پہلے ہی مختلف ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ پیغامات کی ترسیل نہیں بلکہ امریکا کا رویہ ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا غیرمنطقی، لالچی اور دوسروں پر کنٹرول قائم کرنے والا طرزِ عمل موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے اور کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں جو اس کے اسٹریٹجک مفادات کو نظر انداز کرے۔

دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی حکومت نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ یا ایران کے مؤقف پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا تھا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عراق، قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اہم اختلافات برقرار رہنے کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دیں
  • اسرائیل کے اعتراض کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارہ کا علاقہ اور لبنانی قلعے عالمی ورثے قرار
  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم