لاہور:قومی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان شہباز احمد سینئرنے ایشیا کپ کے لیے ٹیم بھارت بھجوانے کی مخالفت کردی۔

سابق سیکرٹری پی ایچ ایف و ہاکی اولمپئن شہباز احمد نے ایکسریس نیوز کے پروگرام اسپورٹس ورلڈ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کوایونٹ نیوٹرل مقام پر کرانے کا مطالبہ کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ کھیل ضرور امن کا پیغام دیتے ہیں لیکن اس وقت ماحول بہت مختلف ہے، جب سے پاکستان نے بھارت کی طرف سے مسلط کردہ جنگ میں ان کو شکست دی ہے، بھارتی وزیر اعظم کے ساتھ پورا ہندوستان پاکستان کا مخالف ہوگیا ہے، ایسے حالات میں کھلاڑیوں کی حفاظت کی ضمانت کون دے گا۔

شہباز احمد نے کہا کہ ہمارے کھلاڑیوں کی حفاظت سب سے پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ اس وقت ہمیں چین اور دوسرے ممالک کے ساتھ بھی بات چیت کرنی چاہیے، بھارت کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ اکیلے اس کے دم سے ہاکی نہیں چل رہی، پاکستان کے بغیر دنیا کی ہاکی ادھوری ہے، بہتر یہ ہوگا کہ پاکستان بھارت جانے کے بجائے یہ مطالبہ کردے کہ یہ ایشیا کپ نیوٹرل مقام پر کرایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ چین، ملائیشیا سمیت دوسرے ممالک سے بات کرکے ان کو قائل کیا جاسکتا ہے کہ بھارت ایک غیر محفوظ ملک ہے، وہاں ایونٹ نہیں ہونا چاہیے۔ انٹرنیشنل ہاکی کی تنظمیم سے بھی درخواست کرنی چاہیے کہ وہ پاکستان کو ایونٹس کی میزبانی دے، اگر ملک میں میچز ہوں گے تو نوجوانوں میں ہاکی کا شوق بڑھے گا، کھلاڑیوں کے پول میں اضافہ ہوگا۔

شہباز احمد نے کہا کہ موجودہ کھلاڑی باصلاحیت ضرور ہیں لیکن ان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ نہیں کی جاسکتیں۔ حکومت کو قومی کھیل کو مکمل سپورٹ کرنا ہوگا تاکہ کھلاڑیوں کی ٹریننگ کے بہتر انتظامات ہوسکیں، مستقبل کے ایونٹس میں اچھی پرفارمنس دینے کے قابل ہوں۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: نے کہا کہ

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم