نئے وزیراعظم آزاد کشمیر کیلئے نام فائنل نہ ہوا،تحریک عدم اعتماد فوری جمع کرانے کا فیصلہ مؤخر
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آزادکشمیر میں سیاسی دھند نہ چھٹ سکی۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے استعفیٰ نہیں دیا۔ پیپلزپارٹی کی دوپہر دو بجے تک کی ڈیڈلائن گزر گئی۔ نئے وزیراعظم کیلئے نام فائنل نہ ہونے پر تحریک عدم اعتماد فوری جمع کرانے کا فیصلہ مؤخر کردیا گیا۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر کواستعفے کیلئے دی گئی مہلت ختم ہوگئی۔ چوہدری انوار الحق نے مہلت کے دوران استعفیٰ نہ دیا۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے تحریک عدم اعتماد کاسامنا کرنے کا اعلان کردیا۔ کہا جن کے پاس نمبر پورے ہیں وہ تحریک عدم اعتماد لےآئیں۔ جب تک اختیار ہے کام کرتا رہوں گا۔
کوئٹہ: آسمان پر خوبصورت رنگ برنگی روشنیوں کا ہالہ دیکھا گیا
پی پی قیادت اب قائد ایوان نامزد کرکے چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائے گی تاہم اسمبلی قوانین کے مطابق عدم اعتماد کے ساتھ نئے قائد ایوان کا نام دینا لازمی اسلیے عدم اعتماد فوری جمع کرانے کا فیصلہ مؤخر کردیا گیا۔
پیپلزپارٹی نے نئے وزیراعظم آزاد کشمیر کےلیے اپنی مشاورت مکمل کرلی۔ چوہدری لطیف اکبر، چوہدری یاسین اور سردار یعقوب کے ناموں میں سےایک کا اعلان متوقع ہے۔ پیپلز پارٹی اتفاق رائے سے وزیراعظم آزاد کشمیر کا انتخاب کرنے کی حامی ہے۔ ن لیگ سے ناموں پر مشاورت کے بعد ازسرنو جائزہ لیا گیا۔
بینک مکرمہ لمیٹڈ نے نو ماہ میں ایک ارب 75 کروڑ روپے منافع قبل از ٹیکس کا ریکارڈ شائع کردیا
قبل ازیں اسلام آباد میں سیاسی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد احسن اقبال کی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حالات کا تقاضہ تھا کہ آزاد کشمیر میں موجودہ سیٹ اپ کو تبدیل کیا جائے۔ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو قانون ساز اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے ارکان بھرپور اپوزیشن کا کردار نبھائیں گے۔ مسلم لیگ ن ۔ وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں تو پیپلز پارٹی کا ساتھ دے گی مگر نئی حکومت میں حصہ دار نہیں بنے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: تحریک عدم اعتماد
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ تحریک انصاف کے بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے فارم 47 والے بیانیے کو مانا ہے اس کے بعد پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ تمام عہدوں سے استعفے دے اور ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے۔
پروگرام میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ پاکستان کی خاطر حکومت میں بیٹھے ہیں۔
ن لیگ کے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہی رہے گی اور اسی تنخواہ پر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہيں گے۔