Jasarat News:
2026-06-03@08:31:41 GMT

حکومتی پالیسی نے کسان کو بھکاری بنادیا،عوامی تحریک

اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251028-2-10
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری، مرکزی سینئر نائب صدر نور احمد کاتیار، مرکزی رہنما ڈاکٹر رسول بخش خاصخیلی، ڈاکٹر دلدار لغاری، ایڈووکیٹ اسماعیل خاصخیلی اور نور نبی پلیجو نے اپنے مشترکہ پریس بیان میں کہا ہے کہ حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں کے باعث اناج پیدا کرنے والا ہاری بھوکا رہ گیا ہے جبکہ اسمگلنگ کرنے والے خوشحال بن گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی سندھ کی حکومت کسانوں کا استحصال کر رہی ہے اور اسمگلنگ کرنے والوں کی سرپرستی کر رہی ہے۔رہنماؤں نے کہا کہ حکومت نے دھان کے نرخ کم کر کے کسانوں کا معاشی قتل عام شروع کر دیا ہے۔ حکومتی انتظامیہ، منافع خور تاجروں اور مل مالکان کی ملی بھگت نے ہاریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ دھان کی کاشت پر بہت زیادہ لاگت آتی ہے، اس کے باوجود کسانوں کو مناسب قیمت نہیں مل رہی۔ نام نہاد منتخب نمائندے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، اور ان کی مجرمانہ خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں ایم پی اے اور ایم این اے عوام کے ووٹوں سے نہیں بلکہ فارم 47 سے منتخب ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ نمائندے ووٹ دینے والوں کی تذلیل کرتے رہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دھان کے کم نرخوں کے معاملے پر اپوزیشن جماعتوں کے نمائندے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔رہنماؤں نے کہا کہ سندھ کا ہاری جو ملک کے لیے خوراک پیدا کرتا ہے، وہ خود بھوک اور افلاس سے دو چار ہے، جو حکومت کی نااہلی اور جاگیردارانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ کسانوں کی محنت کا صلہ حکمران کھا رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے دھان کے نرخ کم کر کے ہاریوں کے منہ سے نوالہ بھی چھین لیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بیج، کھاد، زرعی دواؤں، پانی، ٹرانسپورٹ اور اسپرے سمیت مختلف اخراجات کی مد میں کسان قرض لے کر فصل کاشت کرتے ہیں، اس کے باوجود فی من نرخ صرف 2000 سے 2200 روپے دیے جا رہے ہیں، جن سے لاگت بھی پوری نہیں ہوتی۔ نتیجتاً کسانوں کی ساری محنت حکمرانوں کی بیگار میں چلی جاتی ہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار

پشاور:

خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔

ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وزیر تعلیم پنجاب کا سمر کیمپ کے حوالے سے حکومتی ہدایت پر عملدرآمد نہ کرنے کا نوٹس
  • کسان کارڈ سے کاشتکار سر اٹھا کر جیئے گا: مریم نواز
  • پنجاب میں پہلی بار 8 لاکھ 32ہزار سےزائدکاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور