نیشنل ٹریفک کمیشن کی ہنگامی بنیاد پر تنظیم نو کی ہدایت،پی این ایس سی کو عالمی معیار کی کمپنی بنانے کیلیے جامع پلان طلب
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(آن لائن +اے پی پی ) وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان نیشنل شپکنگ کارپوریشن
(PNSC) کو بین الاقوامی معیار کی شپنگ کمپنی بنانے کے لیے جامع منصوبہ طلب کرلیا۔ وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف کی زیرِ صدارت نیشنل شپنگ کارپوریشن کی تنظیمِ نو، اصلاحات، کارکردگی کے جائزے اور اسے بین الاقوامی معیار کی شپنگ کمپنی بنانے کے حوالے سے اجلاس ہوا۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کے شپنگ شعبے میں سرمایہ کاری کی وسیع استعداد موجود ہے، انہوں نے ہدایت دی کہ شپنگ شعبے میں نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے جامع پلان مرتب کرکے پیش کیا جائے۔علاوہ ازیں وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم سے بین الاقوامی ای کامرس کمپنی علی بابا گروپ کی انٹرنیشنل
مارکیٹس کے صدر جیمز ڈونگ کی قیادت میں 6 رکنی وفد نے ملاقات کی۔اس موقع پر شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ملک میں ای کامرس کو مزید فروغ دینے کا لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دینے اور ای کامرس پلیٹ-فارمز پر مصنوعات فروخت کرنے والے پاکستانی کاروباروں کی تعداد میں مزید اضافے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ای کامرس عصر حاضر میں برآمدات میں خاطر خواہ اضافے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ علی بابا گروپ جیسے ای کامرس پلیٹ-فارمز پر اس وقت 3لاکھ سے زاید پاکستانی مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات فروخت کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔