وزیراعظم نے پاکستان نیشنل شپکنگ کارپوریشن کو بین الاقوامی معیار کی شپنگ کمپنی بنانے کیلئے جامع منصوبہ طلب کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 جولائی2025ء)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان نیشنل شپکنگ کارپوریشن (PNSC) کو بین الاقوامی معیار کی شپنگ کمپنی بنانے کیلئے جامع منصوبہ طلب کرلیا۔وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت نیشنل شپنگ کارپوریشن کی تنظیمِ نو، اصلاحات، کارکردگی کے جائزے اور اسے بین الاقوامی معیار کی شپنگ کمپنی بنانے پر اجلاس ہوا جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان کے شپنگ شعبے میں سرمایہ کاری کی وسیع استعداد موجود ہے۔
شہبازشریف نے کہاکہ شپنگ شعبے میں نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کیلئے جامع پلان مرتب کرکے پیش کیا جائے۔ وزیراعظم نے کہاکہ بحری جہازوں کی تعداد میں اضافے اور پاکستان میں کارگو کی آمدو رفت کیلئے مسابقتی بنیادوں پر پی این ایس سی کے جہازوں کے استعمال کے فروغ کے حوالے سے اقدامات کئے جائیں۔(جاری ہے)
شہبازشریف نے کہاکہ پی این ایس سی کو بین الاقوامی معیار کی شپنگ کمپنی بنانے کیلئے شعبے کے ماہرین و کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کی جائیں۔
وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی اصلاحات سے نہ صرف شپنگ کی مد میں بین الاقوامی کمپنیوں کو ادا کئے جانے والے قیمتی زر مبادلہ کی بچت ہوگی بلکہ مقامی سی فیئررز کیلئے روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔اجلاس کو نیشنل شپنگ کارپوریشن میں بحری جہازوں کی موجودہ تعداد، پاکستان میں سالانہ کارگو کی آمد و رفت اور مستقبل میں پی این ایس سی کی توسیع کے حوالے سے آگاہ کیا گیا.اجلاس کو پی این ایس سی کے آپریشنز پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، جنید انور چوہدری اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بین الاقوامی معیار کی شپنگ کمپنی بنانے پی این ایس سی نے کہاکہ
پڑھیں:
وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔