یورپی یونین اور پاکستان میں 2 کروڑ یورو کی گرانٹ کا معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (صباح نیوز) حکومت پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان 2 کروڑ یورو کے گرانٹ معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں، جس کے تحت ’’بہتر طرزِ حکمرانی اور کاروباری ماحول‘‘ کے عنوان سے پروگرام شروع کیا جائے گا، یہ معاہدہ پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی کیلیے دونوں فریقین کے مشترکہ عزم کی توثیق ہے۔ معاہدے پر یورپی یونین کی سفیر ڈاکٹر رینا کیونکا اور سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن ڈاکٹر کاظم نیاز نے دستخط کیے۔ یہ منصوبہ یورپی یونین کے کثیر سالہ اشارتی پروگرام 2021-2027ء کے تحت مالی معاونت حاصل کرے گا، جس کا مقصد پاکستان کے نجی شعبے، بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) جن میں خواتین کی زیر قیادت یا خواتین کو فائدہ پہنچانے والے کاروبار شامل ہیں اور ان کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ منصوبے کے تحت ایس ایم ایز سے متعلق قانون سازی کو مضبوط کیا جائے گا، برآمدات پر مبنی صنعتوں کو گرین اکانومی کی طرف منتقل کرنے میں مدد دی جائے گی، سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا، اور نجی و سرکاری شعبے کے درمیان مکالمے کو فروغ دیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یورپی یونین جائے گا
پڑھیں:
بجٹ 2026-27: وزیراعظم کی صنعتکاروں سے مشاورت، برآمدات اور سرمایہ کاری بڑھانے پر زور
اویس کیانی: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے معروف صنعتکاروں اور کاروباری رہنماؤں سے ملاقات کرتے ہوئے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ، معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق اہم مشاورت کی۔
ملاقات میں ملک کی بڑی کاروباری شخصیات نے شرکت کی جبکہ وزیراعظم نے کاروباری برادری کو ملکی معیشت کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط شراکت داری ہی پائیدار معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کی معاشی پالیسی کا بنیادی محور برآمدات میں اضافہ، صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کا فروغ ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے، کاروباری سرگرمیوں کو آسان بنانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے بجٹ میں مختلف اقدامات شامل کیے جا رہے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ کاروبار دوست پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت میں استحکام آیا ہے اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ حکومت ایسی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے جو پیداوار، برآمدات اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کر سکیں۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
اجلاس کے دوران کاروبار، صنعت اور تجارت کے فروغ کیلئے حکومتی اقدامات پر بریفنگ بھی دی گئی۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ ٹیکس مقدمات کے فوری فیصلوں کیلئے اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں جبکہ خصوصی کمرشل کورٹس کے قیام پر بھی کام جاری ہے۔
بریفنگ میں کراچی بندرگاہوں سے اندرون ملک رسائی بہتر بنانے، موٹرویز کی اپ گریڈیشن، ریلوے انفراسٹرکچر کی بہتری اور نیشنل اے آئی ٹرانسفارمیشن پلان سے متعلق پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
کاروباری رہنماؤں نے معاشی بحالی، ٹیکس اصلاحات، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ اور سرمایہ کاری دوست ماحول کی فراہمی پر وزیراعظم اور حکومتی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ وفد نے بجلی کے نرخوں میں کمی، ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی اور کاروباری آسانیوں کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
شرکاء نے آئندہ بجٹ کی تیاری میں کاروباری برادری کو اعتماد میں لینے کے اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے معاشی ترقی، صنعتی توسیع اور برآمدات میں اضافے کیلئے اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان