بارش کے باعث تاخیر، بھارت اور جنوبی افریقہ کی خواتین ورلڈ کپ فائنل کا نیا وقت مقرر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
نوی ممبئی کے ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل اسپورٹس اکیڈمی میں جاری خواتین ون ڈے ورلڈ کپ 2025 کے فائنل میں بارش کے باعث پیدا ہونے والی تاخیر کے بعد نیا ٹاس اور آغاز کا وقت طے کر لیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بارش رکنے کے بعد گراؤنڈ اسٹاف نے کور ہٹا دیے ہیں، اور اب میدان کو خشک کرنے کا کام جاری ہے۔
منتظمین نے اعلان کیا ہے کہ اگر کھیل مقامی وقت کے مطابق رات 9 بج کر 8 منٹ تک شروع ہو گیا اور بغیر رکاوٹ جاری رہا تو نتیجہ آج ہی طے کیا جائے گا۔ بصورتِ دیگر میچ کل، پیر کے روز ریزرو ڈے پر مکمل کیا جائے گا۔
یہ فائنل تاریخی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ نہ بھارت اور نہ ہی جنوبی افریقہ نے آج تک کسی خواتین ون ڈے ورلڈ کپ کا ٹائٹل جیتا ہے۔ اس لیے جیسے ہی کھیل کا آغاز ہوگا، کرکٹ دنیا کو ایک نئی چیمپئن ٹیم ملے گی۔
شائقین کی بڑی تعداد اس اہم مقابلے کے منتظر ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ موسم مزید مداخلت نہیں کرے گا تاکہ ورلڈ کپ کا فیصلہ آج ہی ممکن ہو سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ورلڈ کپ
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :