اسلام آباد:

یورپی یونین بہتر طرز حکمرانی اور کاروباری ماحول کے پروگرام کے لیے پاکستان کو دو کروڑ یورو امداد فراہم کرے گا اور اس کے لیے یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان نہ صرف معاہدہ طے پاگیا ہے بلکہ حکومتِ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان 2 کروڑ یورو کے گرانٹ معاہدے پر دستخط ہ بھی ہو گئے ہیں۔

وفاقی وزارت اقتصادی امور کے مطابق معاہدے کے تحت "بہتر طرزِ حکمرانی اور کاروباری ماحول" کے عنوان سے پروگرام شروع کیا جائے گا، یہ معاہدہ پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی کے لیے دونوں فریقین کے مشترکہ عزم کی توثیق ہے۔

مذکورہ معاہدے پر یورپی یونین کی سفیر ڈاکٹر رینا کیونکا اور سیکریٹری اقتصادی امور ڈویژن ڈاکٹر کاظم نیاز نے دستخط کیے اور یہ منصوبہ یورپی یونین کے طویل مدتی اشارتی پروگرام 2021-2027 کے تحت مالی معاونت حاصل کرے گا۔

یورپی یونین کا اس معاہدے کا مقصد پاکستان کے نجی شعبے، بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) جن میں خواتین کی زیر قیادت یا خواتین کو فائدہ پہنچانے والے کاروبار شامل ہیں اور ان کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔

منصوبے کے تحت ایس ایم ایز سے متعلق قانون سازی کو مضبوط کیا جائے گا، برآمدات پر مبنی صنعتوں کو گرین اکانومی کی طرف منتقل کرنے میں مدد دی جائے گی، سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا اور نجی و سرکاری شعبے کے درمیان مکالمے کو فروغ دیا جائے گا۔

وزارت اقتصادی امور کے مطابق یہ پروگرام یورپی یونین کی گلوبل گیٹ وے اسٹریٹجی، جی ایس پی پلس وعدوں اور یورپی یونین گرین ڈیل سے ہم آہنگ ہے اور پائیدار سرمایہ کاری اور مضبوط سپلائی چینز کے فروغ کو یقینی بنائے گا۔

اس موقع پر ڈاکٹر کاظم نیاز نے یورپی یونین کے مسلسل تعاون اور شراکت داری پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام نہایت بروقت ہے اور "اڑان پاکستان" کے نجی شعبے کی ترقی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے اہداف سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے تاکہ پاکستان میں ذمہ دار سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔

یورپی یونین کی سفیر ڈاکٹر رینا کیونکا نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان کو ایک مضبوط، جامع اور مسابقتی معیشت بنانے میں مدد دینے کے لیے یورپی یونین کے عزم کا مظہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم خواتین کی زیر قیادت کاروباروں اور نجی و سرکاری شراکت داریوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں تاکہ پاکستان کا مستقبل زیادہ پائیدار اور خوش حال ہو۔

سفیر نے کہا کہ یورپی یونین کا پاکستان کے ساتھ ترقیاتی تعاون موسمیاتی تبدیلی، بہتر طرزِ حکمرانی، انسانی حقوق اور پائیدار اقتصادی ترقی پر مرکوز ہے اور یہ نیا اقدام ان مشترکہ ترجیحات کو آگے بڑھانے کی ایک اور عملی مثال ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: یورپی یونین کے سرمایہ کاری جائے گا کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ

—تصویر بشکریہ سوشل میڈیا

قونصلیٹ جنرل آف پاکستان مانچسٹر نے پاکستانی کمیونٹی کی سہولت کے لیے سرکاری اوقات میں اضافہ کر دیا ہے۔

ہائی کمشنر آف پاکستان ٹیپو عثمان کی ہدایت پر اب قونصل خانہ کمیونٹی خدمات کے لئے روزانہ صبح 8:00 بجے کام کا آغاز کرے گا۔

قونصل جنرل امتیاز فیروز گوندل کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئے اوقات کار سے کمیونٹی کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں گی، جبکہ روزانہ اپوائنٹمنٹ کی تعداد بھی بڑھا دی جائے گی۔

تمام درخواست گزاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ قونصل خانے کی آن لائن اپوائنٹمنٹ پورٹل کے ذریعے وقت لینا ہوگا۔

یہ اپوائنٹمنٹ ہر ہفتہ کے روز صبح 10:00 بجے جاری کی جائیں گی۔درخواست گزار اپوائنٹمنٹ بک کرتے وقت اپنی ذاتی معلومات استعمال کریں اور مقررہ وقت پر پہنچیں۔

30 منٹ سے زیادہ تاخیر سے آنے والے درخواست گزاروں کو نئی اپوائنٹمنٹ لینا ہوگی۔

قونصل جنرل امتیاز فیروز گوندل نے کہا کہ یہ اقدامات کمیونٹی کو مؤثر، شفاف اور بہتر خدمات فراہم کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان