یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان 2کروڑ یورو گرانٹ کا معاہدہ طے پاگیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان 2 کروڑ یورو کے گرانٹ معاہدے پر دستخط ہو گئے۔
وزارت اقتصادی امور کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ معاہدے کے تحت ’بہتر طرزِ حکمرانی اور کاروباری ماحول‘ کے عنوان سے پروگرام شروع کیا جائے گا۔
مزید بتایا کہ یہ معاہدہ پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی کے لیے دونوں فریقین کے مشترکہ عزم کی توثیق ہے، معاہدے پر یورپی یونین کی سفیر ڈاکٹر رینا کیونکا اور سیکریٹری اقتصادی امور ڈویژن ڈاکٹر کاظم نیاز نے دستخط کیے۔
اعلامیے کے مطابق یہ منصوبہ یورپی یونین کے کثیر سالہ اشارتی پروگرام 27-2021 کے تحت مالی معاونت حاصل کرے گا، جس کا مقصد پاکستان کے نجی شعبے، بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) جن میں خواتین کی زیر قیادت یا خواتین کو فائدہ پہنچانے والے کاروبار شامل ہیں اور ان کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
بتایاگیاہے کہ منصوبے کے تحت ایس ایم ایز سے متعلق قانون سازی کو مضبوط کیا جائے گا، برآمدات پر مبنی صنعتوں کو گرین اکانومی کی طرف منتقل کرنے میں مدد دی جائے گی، سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا، اور نجی و سرکاری شعبے کے درمیان مکالمے کو فروغ دیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یورپی یونین جائے گا
پڑھیں:
پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
میانمار میں پاکستان کے سفیر طارق کریم(Tariq kareem) نے اپنی رہائش گاہ پر پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا۔
عشائیے میں یونین آف میانمار فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (UMFCCI) کے صدر، نائب صدر، میانمار چیمبر آف کامرس فار فارماسیوٹیکل اینڈ میڈیکل ڈیوائسز (MCCPMD) کے چیئرمین، دیگر معروف کاروباری شخصیات اور فارمیٹیک پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے وفد نے شرکت کی۔
اس موقع پر سفیر طارق کریم اور معزز مہمانوں کے درمیان خوشگوار اور بامقصد تبادلہ خیال ہوا، جس میں پاکستان اور میانمار کے درمیان تجارت و اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے، بالخصوص ادویہ سازی، ٹیکسٹائل اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے، جبکہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان براہ راست روابط (B2B Linkages) کو مضبوط بنانے کے امکانات پر گفتگو کی گئی